Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 07 04 2013

Sunday, 26th Jamadi-ul- Awwal 1434H                          07/04/2013                                N0: PR13036

Press Release

Real Change is in Change of System, Not Merely Change of Faces

Pakistan Needs a “Sadiq” and “Ameen” System, Not Merely “Sadiq” and “Ameen” Rulers

As a new survey was released that indicated that the majority of Pakistan’s youth support an Islamic state as opposed to democracy, Pakistan’s ruling elite backed by the judiciary attempted to revive hope in the democratic system, by disqualifying potential aspirants to the National and Provincial Assembly seats under the pretext of Articles 62 & 63 of the Constitution of Pakistan. Such desperate measures are being taken as the survey by the British Council suggested that a staggering 94% of the young generation, aged between 16 and 29 years, believe that the country is headed in the wrong direction, expressing their desire for real change in Pakistan. Afraid of the role of the Muslim youth in the Arab spring, who played a vital role in bringing down the decades old political order in the Middle East, the ruling elite in Pakistan is trying to channel the disillusionment of the youth from democracy by redefining the idea of change from a radical change of the system to a mere, cosmetic change of faces.

By disqualifying the aspirants to provincial and national assemblies on the pretext that they are corrupt and incompetent, the rulers want to convey a message that corruption and rot lies in the individuals who rule, and not the system itself, according to which they rule. But the reality of the matter is that corruption and rot lies in democracy, a system which Pakistan inherited as a legacy of the British Colonialists and which has served to secure the interests of colonialists and their agents in the civilian and military leadership for over six decades. Allah (SWT) alone is the Legislator and He has defined in the Quran the criterion for the legitimate rulers.

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَـٰئِكَ هُمُ ٱلْفَاسِقُونَ

“And those who do not rule by what Allah has revealed are the transgressors”

(Surrah Al-Maida: 47)

It is not enough that pious individuals with a clean financial record are elected, as rulers if they rule by laws which are not revealed by the Almighty, rather it is forbidden in Islam to be part of a system which allows election of men who are so-called  “clean and pious”, but rule by kufr laws.  Democracy stipulates that human beings make laws by allowing the majority to legislate according to their whims and desires. Islam prohibits Muslims to rule by anything other that what Allah (SWT) has revealed and demands that every law be derived from the Quran and Sunnah. Allah says in the Quran:

فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ

“So judge between them by what Allah has revealed and follow not their vain desires diverging away from the truth that has come to you”

(Surrah Al Maida:48)

Real change in Pakistan will not come through the mere change of faces even if they are “Sadiq” or “Amin”. Real change in Pakistan will come when a “Sadiq” and “Amin” system is in place, a Khilafah implementing Islam in its entirety. We call upon the people of Pakistan to reject the idea of change of faces as a farce and join the struggle for changing the corrupt system of democracy by calling for the complete and comprehensive implementation of Islam through the Khilafah state.

Media Office of Hizb ut-Tahrir in Pakistan

اتوار، 26 جمادی الاول، 1434ھ                                             07/04/2013                                نمبر:PR13036

حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی ہے نہ کہ چہروں کی تبدیلی

پاکستان کو "صادق"  ور "امین" نظام کی ضرورت ہے، صرف "صادق" اور "امین" چہروں کی نہیں

ایک ایسے وقت میں جب برٹش کونسل نے ایک نیا سروے جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت اسلامی ریاست کے قیام کی حمائت اور جمہوریت کو مسترد کرتی ہے، پاکستان کا حکمران طبقہ، عدلیہ کی حمائت کے ساتھ، آئین کی دفعات 62 اور 63 کو استعمال کر کے قومی و صوبائی اسمبلی کے کئی متوقع امیدواروں کو نااہل قرار دے رہا ہے تاکہ اس مردہ اور دھتکارے ہوئے جمہوری نظام کو ایک بار پھر لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنایا جاسکے۔ پریشانی کی حالت میں اٹھائے گئے اس انتہائی قدم کی وجہ نوجوانوں کی وہ سوچ ہے جس کی طرف برٹش کونسل کے جاری کردہ سروے میں اشارہ کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے نوجوانوں کی 94 فیصد تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ملک غلط سمت میں گامزن ہے اور وہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا حکمران طبقہ عرب بہار سے خوف زدہ ہے، جس میں مسلم نوجوانوں نے کئی دہائیوں پرانے سیاسی نظام کے خاتمے میں ایک اہم کردار ادا کیا، اس لیے یہ حکمران پاکستان کے نوجوانوں میں موجود جمہوری نظام کے خلاف نفرت کو محض چند چہروں سے نفرت کی جانب موڑ دینا چاہتے ہیں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے چند امیداروں کو کرپشن اور جھوٹ کی بنیاد پرانتخابات کے کھیل سے باہر نکال کر حکمران عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کرپشن اور بدعنوانی چند افراد میں ہے نہ کہ اس جمہوری نظام میں جس کے تحت یہ حکمرانی کرتے ہیں۔ لیکن اس مسئلے کی حقیقت یہ ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی اس جمہوری نظام کے خمیر میں ہے، وہ نظام جس کو پاکستان نے برطانوی استعمار سے وراثت میں حاصل کیا اور یہ جمہوری نظام ہی ہے جس نے ہمیشہ استعماری طاقتوں اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود ان کے ایجنٹوں کے مفادات کو ہی پورا کیاہے۔ اسلام میں صرف اللہ سبحانہ و تعالی ہی قانون ساز ہیں اور انھوں نے قرآن میں حکمرانوں کے چننے کے معیار کو بیان کر دیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَـٰئِكَ هُمُ ٱلْفَاسِقُونَ

"اور جو اللہ کی اتاری ہوئی وحی (قرآن) کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو وہ فاسق ہیں"


صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ان لوگوں کو چن لیا جائے جو نیک ہیں اور جن کا ماضی داغدار نہیں اور پھر وہ اس قانون کے مطابق حکمرانی کریں جو اللہ سبحانہ و تعالی کا نازل کردہ نہیں ہے بلکہ اسلام نے ایسے نظام کا حصہ بننے کو ہی حرام قرار دیا ہے جس میں ہم نیک اور پارسا لوگوں کو چنیں تاکہ وہ ہم پرکفر قوانین کی بنیاد پر حکمرانی کریں۔ جمہوریت انسانوں کو قانون ساز قرار دیتی ہے جہاں اکثریت اپنی خواہشات کی بنیاد پر قانون سازی کرتی ہے۔ اسلام مسلمانوں کو اللہ کی دی ہوئی شریعت کے سوا کسی بھی دوسرے قانون یا شریعت کی بنیاد پر حکمرانی کرنے کو حرام قرار دیتا ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہر قانون صرف اور صرف قرآن و سنت سے ہی لیا جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:

فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ

"ان کے درمیان اللہ کی اتاری ہوئی وحی کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ایسا نہ ہوکہ یہ اس حق سے آپ کو موڑ دیں جوآپ کے پاس آچکا ہے"


پاکستان میں حقیقی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی سے نہیں آئے گی چاہے وہ "صادق" اور "امین" ہی کیوں نہ ہوں۔ پاکستان میں حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب  "صادق" اور "امین" نظام یعنی خلافت کا نظام قائم ہوگا۔ ہم پاکستان کے عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محض چہروں کی تبدیلی کے اس تماشے کو مسترد کر دیں اور کرپٹ جمہوری نظام کو اکھاڑ پھینکیں اور خلافت کے قیام کے ذریعے اسلام کے مکمل اور جامع نفاذکا مطالبہ کریں۔

میڈیا آفس حزب التحریر ولایہ پاکستان

Today 16 visitors (104 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free