Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

Nawaz Sharif Address at United Nations

Thursday, 17th ZilHaj1436                                 01/10/2015 CE                           No: PR15070

Press Release

Nawaz Sharif’s Address at United Nations

Liberating Kashmir Cannot Occur Through Negotiations or Avoiding Military Force

Hizb ut-Tahrir Wilayah of Pakistan strongly rejects the four points presented by the Raheel-Nawaz regime in front of the United Nations General Assembly. This proposal is not meant for the liberation of Kashmir and is only to maintain status quo according to US desires.

It is not even beyond children to know that whether its Palestine and Kashmir, or Afghanistan and Iraq, the problems faced by Muslims can never be solved through the United Nations. The UN as an institution is a tool of America and other colonialist Kafir powers. It only works to secure their interests. However, our rulers turn their faces towards this colonialist institution to solve the problems of Muslim Ummah. They urge the Ummah to pin her hopes on getting support from it. Don’t they have the intellect to see this reality, or do they do it knowingly so that Kashmir and Palestine can never be liberated from Kuffar occupation?

This is not the first time that traitors in the political and military leadership have presented useless proposals to have peace with India. Proposals that prevent the liberation of Kashmir and preserve her present oppressed status. Before the current four points, Musharaf in 2004 also presented a notorious set of four points. The Muslims of Pakistan and Kashmir must not be deceived by traitors in political and military leadership when they mention Kashmir in their speeches, because they shift the responsibility of liberating Kashmir onto the United Nations and the “international community.” This ensures the continuation of occupation of Kashmir by India. How can Kashmir be liberated through dialogue and avoiding military force, when India has occupied it through military force? In this scenario, promoting dialogue simply means abandoning the responsibility of liberating Kashmir.

During the same visit, the Raheel-Nawaz regime offered more troops and military equipment to the United Nations in order to secure colonialist interests. However, when asked to liberate Kashmir they present a proposal to demilitarize Kashmir, which means that even the currently liberated “Azad” Kashmir will be handed over and administered by the colonialists, their institutions or their agents. Offering troops to United Nation proves that our armed forces are so powerful that they can fight anywhere in the world. However, when the rulers are asked to mobilize the army to liberate Kashmir, they throw up their hands and complain of the weakness in our economy and military.

The proposal of placing UN observers on the Line of control, no use of force in any circumstances, demilitarization of Kashmir and withdrawal from the Siachen Glacier demonstrates a defeated and weak mentality. Are our armed forces so weak that the traitors in the political and military leadership must beg for peace with the Hindu state at any cost?

The sincere leadership is not the one which shifts its responsibility for liberating Kashmir onto the United Nations or the “international community.” Rather the sincere leadership will be the one which will move the mighty armed forces of Pakistan under the flag of Kalima, which is the flag of RasulAllah saaw, so as to liberate Kashmir from Hindu state oppression. And this will only be possible under the leadership of the rightly guided Khaleefah. So the Muslims of Pakistan must move forward and join the struggle of Hizb ut-Tahrir and establish the Khilafah which will earn the Prophecy of RasulAllah saaw, as he said,

عصابتان ‏من أمتي‏ ‏أحرزهما ‏ ‏الله من النار ‏‏عصابة‏ ‏تغزو‏ ‏الهند‏ ‏وعصابة‏ ‏تكون مع‏ ‏عيسى ابن مريم‏ ‏عليهما السلام

"Two groups of my Ummah Allah has protected from the Hellfire: a group that will conquer India and a group that will be with 'Eessa son of Maryam (AS)"

(Nasai & also mentioned in Ahmed & Tabarani)

Shahzad Shaikh

Deputy to the spokesman of Hizb ut-Tahrir in the wilayah of Pakistan 

پیر، 17 ذی الحج، 1436ھ                               01/10/2015                                نمبرPR15070 :

نواز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب

مذاکرات اور فوجی قوت کے عدم استعمال سے کشمیر آزاد نہیں ہو سکتا

حزب التحریر ولایہ پاکستان راحیل-نواز حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کیے جانے والے چار نکاتی منصوبے کو مسترد کرتی ہے۔ یہ منصوبہ کشمیر کی آزادی کا نہیں بلکہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو امریکہ کی خواہش پر جو ں کا توں برقرار رکھنے کا منصوبہ ہے۔

پاکستان کیا پوری امت مسلمہ کا بچہ بچہ یہ جان چکا ہے کہ فلسطین ہو یا کشمیر، افغانستان ہو یا عراق مسلمانوں کے مسائل اقوام متحدہ کے ذریعے حل ہو ہی نہیں سکتے بلکہ یہ ادارہ امریکہ اور دیگر کافر استعماری طاقتوں کا آلہ کار ہے اور انہی کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے حکمران مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لئے اسی استعماری ادارے سے التجائیں کرتے ہیں اور مدد کی امید رکھتے ہیں۔ کیا یہ حکمران عقل نہیں رکھتے یا جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں تاکہ کشمیر و فلسطین کبھی کفار کے قبضے سے آزاد ہی نہ ہو سکیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے بھارت کے ساتھ امن کے نام پر ایسا منصوبہ پیش کیا ہو جس سے کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ اس کی موجودہ غلامانہ حیثیت کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہو۔ موجودہ چار نکاتی منصوبے سے قبل پرویز مشرف بھی 2004 میں کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے بدنام زمانہ چار نکاتی منصوبہ پیش کرچکا ہے۔ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کی جانب سے کشمیر کا نام لینے پر پاکستان و کشمیر کے مسلمانوں کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ وہ کشمیر کو آزاد کرانے کی ذمہ داری اقوام متحدہ یا نام نہاد "بین الاقوامی برادری" پر ڈال دیتے ہیں جس کا مطلب کشمیر کی غلامی کا تسلسل ہوتا ہے۔ کشمیر مذاکرات یا فوجی قوت کے عدم استعمال سے آزاد نہیں ہوسکتا جبکہ بھارت نے اس پر فوجی قبضہ کر رکھا ہے۔ اس صورتحال میں مذاکرات یا فوجی قوت کے عدم استعمال کا واضح مطلب کشمیر کی آزادی سے دستبرداری ہے۔

اسی دورے کے دوران راحیل-نواز حکومت نے استعماری مفادات کے تحفظ کے لئے دنیا بھر میں مزید فوج اور فوجی سازو سامان بھیجنے کا بھی وعدہ کیا لیکن جب کشمیر کی آزادی کی بات آتی ہے تو کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز پیش کی جاتی ہے جس کا مطلب موجودہ آزاد کشمیر کو بھی استعمار یا اس کے ایجنٹوں یا اس کے اداروں کی نگرانی میں دے دینا ہے۔ اقوام متحدہ کو مزید فوج دینے کا مطلب واضح ہے کہ ہماری افواج اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں جاکر کاروائیاں کرسکتی ہیں لیکن جب کشمیر کی آزادی کے لئے حکمرانوں سے افواج کو حرکت میں لانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو فوجی و معاشی کمزوریوں کا رونا رویہ جاتا ہے۔

لائن آف کنٹرول پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصروں کی تعیناتی، کسی بھی صورت فوجی طاقت کے استعمال سے گریز، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے اور سیاچن سے فوجوں کو نکال لینے کی تجاویز ایک کمزور اور شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا ہماری افواج اس قدر کمزور ہیں کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار کسی بھی قیمت پر ہندو ریاست سے امن کی بھیک مانگتے ہیں؟

مخلص قیادت وہ نہیں جو کشمیر کی آزادی کی ذمہ داری اقوام متحدہ یا "بین الاقوامی برادی" پر ڈالے دے یا اس کی آزادی کے لئے ان سے التجائیں کرے بلکہ مخلص قیادت وہ ہوگی جو رسول اللہ کے کلمہ والے جھنڈے تلے کشمیر کی آزادی کے لئے پاکستان کی عظیم افواج کو حرکت میں لائے گی اور اسے ہندو ریاست کے ظلم و جبر سے نجات دلائے گی اور ایسا صرف ایک خلیفہ راشد کی قیادت میں ہی ممکن ہے۔ تو پاکستان کے مسلمانو آگے بڑھوں اور پاکستان میں خلافت کے قیام کے لئے حزب التحریر کی جدوجہد میں شامل ہو جاؤ اور اس خلافت کو قائم کرو جو رسول اللہ کی بشارت کو حاصل کرے گی کہ آپ نے فرمایا،

عصابتان‏ ‏من أمتي‏ ‏أحرزهما‏ ‏الله من النار‏ ‏عصابة‏ ‏تغزو‏ ‏الهند‏ ‏وعصابة‏ ‏تكون مع‏ ‏عيسى ابن مريم‏ ‏عليهما السلام

"میری امت کے دو گروہوں کو اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کر دیا ہے، وہ گروہ جو ہندوستان کو فتح کرے گا اور وہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا"

(نسائی،احمد، طبرانی)

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Today 9 visitors (127 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free