Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

Military Courts Confirm Democracys Failure

Saturday, 23rd Shawwal 1436 AH                                   08/08/2015 CE                           No: PR15053

Press Release

Military Courts Confirm Democracy’s Failure

Democracy Confronts Extraordinary Situations with Non-Democratic Means

The Western powers, particularly America, their intellectual and political agents continuously claim before the Muslim Ummah that no system is better than Democracy, because it governs according to the wishes of the people. They claim that it is the only system through which the rights of the people can be protected and rulers can be accounted. However, after the approval of the Twenty First constitutional amendment by Pakistan’s parliament, which provides for military courts that were subsequently endorsed by the Supreme Court, it is clear that Democracy has failed. Democracy rapidly abandons its much trumpeted democratic norms and principles under extraordinary situations. Democracy strips people’s basic rights without hesitation and starts imposing military solutions for political problems. Whether it’s the biggest democracy of the world, India, or the mother of democracy, Britain, or the global standard bearer of democracy, America, all democracies make black laws to erase the rights of the people, like the Prevention of Terrorism Act, the Anti-Terrorism, Crime and Security Act 2001 and the USA Patriot Act respectively. Democracy not only erases the basic rights of the people, it handicaps the judiciary from being a check and balance on the executive, exposing the claim of “independent judiciary,” preventing justice and accountability of rulers.

The Twenty First constitutional amendment is a crucial part of the National Action Plan, which is actually an “American Action Plan.” The plan is to forcibly suppress the call of Islam by persecuting those people who call for the implementation of Islam. Sincere politicians striving for the implementation of the Islamic system are arrested and thrown into prisons under the Protection of Pakistan Act. As for those sincere tribal Muslims who wage Jihad against the American occupation forces, they are either being eliminated by military operations, or are to be prosecuted by military courts.  In order to implement the American agenda and its ensuing dirty work, these traitors are now taking cover of fighting a so-called war against terrorism and extremism. As far as bringing those people to justice who are involved in anti-state activities, killing citizens and sowing discord between Muslims on sectarian or ethnic grounds, there is no need of such black laws or military courts. All that is required is a state that has sincerity and seriousness in purpose, because every aware person knows that the rulers and their security agency thugs themselves provide protection for the actual mischief makers, such as the American spy and assassin Raymond Davis.

Democracy can neither provide justice to the people nor protect their rights because in Democracy, rulers can use any incident to make black laws contradicting Democracy’s basic principles to serve their own personal interests or those of their colonialist masters. The Khilafah is the only system where the ruler cannot manipulate legislation to achieve vested interests, because the law of the Khilafah state is firmly rooted in the Quran and Sunnah, rather than elastic principles such as extraordinary situation or national interest. Similarly, the judiciary in the Khilafah is mandated to deliver verdicts based on the Quran and Sunnah exclusively. So this makes Khilafah the only system that releases the judiciary from executive pressure in a real sense, enabling it to protect the rights of the people and account the rulers.

فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ

“So judge between them by what Allah has revealed, and follow not their vain desires, diverging away from the truth that has come to you”


Shahzad Shaikh

Deputy to the Spokesman of Hizb ut-Tahrir in the Wilayah of Pakistan

ہفتہ، 23 شوال، 1436ھ                                 08/08/2015                                نمبرPR15053:

فوجی عدالتوں کا قیام جمہوریت کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے

جمہوریت غیر معمولی حالات کا مقابلہ غیر جمہوری طریقوں سے کرتی ہے

        امریکہ، مغربی طاقتیں اور ان کے ایجنٹ حکمران و دانشور امت مسلمہ کو یہ سبق مسلسل پڑھاتے رہتے ہیں کہ جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں کیونکہ یہ نظام عوام کی خواہشات کے مطابق حکمرانی کرتا ہے اور یہی وہ واحد نظام ہے جس کے ذریعے عوام کے حقوق کا تحفظ اور حکمرانوں کا احتساب ممکن ہے۔ لیکن ایکسویں آئینی ترمیم کی پاکستانی پارلیمنٹ سے منظوری جس کے تحت فوجی عدالتوں کا قیام عمل لایا گیا اور اب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، سپریم کورٹ کی جانب سے اس کو قانونی قرار دینا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جمہوریت غیر معمولی حالات میں جمہوری اصولوں اور قوانین کے تحت حکمرانی کرنے سے قاصر ہے اور بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیتی ہے اور سیاسی مسائل کے سیاسی حل کی جگہ فوجی حل مسلط کرنے شروع کر دیتی ہے۔

        دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت ہو یا جمہوریت کی ماں برطانیہ یا جمہوری نظام کا نام نہاد عالمی علمبردار امریکہ ہو، سب جمہوریتیں بھارتی پوٹا، برطانوی اینٹی ٹیررازم اینڈ سیکیوریٹی ایکٹ 2001 اور امریکی پیٹریاٹ ایکٹ جیسے کالے قوانین بنا کر انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیتے ہیں بلکہ عدلیہ کی ایگزیکیٹو سے علیحدہ ایک آزاد حیثیت کو ہی ختم کردیتے ہیں جس کے تحت انصاف اور حکمرانوں کے احتساب کو یقینی بنانا ممکن ہی نہیں رہتا۔

        اکیسویں آئینی ترمیم  قومی ایکشن پلان، جو درحقیقت "امریکی ایکشن پلان" ہے اور جس کا مقصد پاکستان میں اسلام کی دعوت اور اس کے داعیوں کو کچلنا ہے، کو نافذ کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ وہ لوگ جو سیاسی میدان میں سیاسی طریقے سے پاکستان میں اسلام کے نفاذ کی جدوجہد کر رہے ہیں انہیں تحفظ پاکستان ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور جو مخلص قبائلی مجاہدین افغانستان میں قابض امریکی افواج کے خلاف جہاد کر رہے ہیں انہیں فوجی آپریشنز اورفوجی عدالتوں کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہے۔ چونکہ حکمران یہ گندا کام کھل کر نہیں کرسکتے لہٰذا وہ اس امریکی ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے نام نہاد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کی آڑ لے رہے ہیں۔ جو لوگ ریاست اور اس کے شہریوں پر حملوں اور ان کے قتل میں ملوث ہیں اورجو مسلمانوں کے درمیان زبان اور مسلک کی بنیاد پر نفرتیں پیدا کرتے ہیں ان کے خاتمے کے لئے اکیسویں آئینی ترامیم جیسے کالے قوانین کی ضرورت نہیں بلکہ ریاست کی سنجیدگی اور اخلاص ضروری ہے کیونکہ یہ بات ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ ایسے عناصر کو خود حکمران اور ان کی ایجنسیاں پالتی پوستی اور ان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں اور امریکی قاتل اور دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس اس کی واضح مثال ہے۔

        جمہوریت انسانوں کو نہ تو انصاف فراہم کرسکتی ہے اور نہ ہی ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرسکتی ہے کیونکہ حکمران اپنے یا اپنے استعماری آقاوں کے مفاد کے لئے کسی بھی واقع کو جواز بنا کر اپنے ہی نظام اور اس کے اصولوں کے خلاف کوئی بھی کالا قانون بنا سکتے ہیں۔ صرف خلافت ہی وہ واحد نظام ہے جس میں خلیفہ اپنے یا کسی کے بھی مفاد کی تکمیل کے لئے قانون سازی نہیں کرسکتا کیونکہ ریاست خلافت کا قانون صرف قرآن و سنت ہوتا ہے جس کو کوئی بھی غیر معمولی حالات کا تقاضا قرار دے کر تبدیل نہیں کرسکتا اور اس کی عدالتیں بھی حکمرانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ صرف اور صرف قرآن و سنت کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ اس طرح خلافت ہی وہ واحد نظام ہے جو عوام کے حقوق کے تحفظ اور حکمرانوں کے احتساب کے لئے حقیقی معنوں میں عدلیہ کو ایگزیکیٹو کے دباؤسے آزاد کرتی ہے۔

فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ

"پس ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ (احکامات) کے مطابق  فیصلہ کریں اور جو حق آپ کے پاس آیا ہے اس کے مقابلے میں ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں"


شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Today 13 visitors (167 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free