Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

Action Against MQM is to Give Credibility to National Action Plan


Friday, 29th Jumad ul Awwal 1436 AH                           20/03/2015 CE                           No: PR15022

Press Release

National Action Plan is US Action Plan

Action Against MQM is to Give Credibility to National Action Plan

The Raheel-Nawaz regime has taken actions against MQM to give credibility to the American drafted National Action Plan. The regime has taken this action to deceive the people that the National Action Plan is not specific to those who for one reason or the other are affiliated to Islamic causes. Thus, action against MQM is not aimed at maintaining peace in Karachi by arresting criminal armed groups or American spies and assassins, rather it is to build credibility for the American war on Islam.

Since the implementation of the National Action Plan began, the regime’s agencies have arrested 25,896 people on different charges and conducted 24,844 combing operations across the country. 3,906 people have been arrested by police in violation of laws on the use of loudspeakers, including 2,874 in Punjab alone. In total, 737 cases have been registered for spreading hate speech, 745 people arrested and a total of 69 shops sealed on same charges. In addition, there is a banning of entry for foreign students in Islamic Madaaris in Pakistan, as well as funding from foreign individuals or countries. These actions have provoked protest from religious parties and Ulema, who accused the regime of undertaking actions aimed against the religious people, whilst giving free hand to secular and nationalist parties with their armed gangs. On 2 March, 2015, the Ittehadul Tanzeemat-i-Madaris, an organization of the five Wifaqs (federations) of religious institutions, strongly rejected the government actions against the Islamic Madaaris. It denounced all “unconstitutional” actions of the rulers who, it alleged, are pursuing the plan of the imperial powers. It added that the government was bent upon advancing the designs of the United States and the West against Islam. It maintained that an anti-Islam plan was being pursued through harassment as well as arrests of the ulema, along with a ban on the utilization of loudspeakers of Masajid. The head of Ittehad-e-Tanzeemaat-e-Madaris complained that only the Madaaris were being focused upon and that the crackdown on the seminaries was relentless, without a break of even a single day.

The National Action Plan has not only caused resentment amongst the Ulema specifically, it has angered the people of Pakistan in general. Such resentment is a danger for the regime and its masters in Washington in their campaign to suppress Islam. Therefore, to deceive the Muslims, action has been taken against MQM to give credibility to the National Action Plan and build a narrative that the National Action Plan is against all criminals, as stated by Information Minister, Senator Pervaiz Rashid, soon after the start of operation against MQM, when he said, “If there is a criminal in a Madressah (seminary) or in the office of a political party he will be arrested and any hurdle in the process will be removed.”

In reality, the crackdown against MQM is just an eye wash. Had the regime been sincere to the security of the people it would have closed the American consulate in Karachi which is used to incite sectarian and ethnic conflict within Karachi and far beyond it, into Baluchistan. It would have rounded up the Raymond Davis network American spies, who fund, plan and supervise bombings and assassinations that have plunged Pakistan into chaos. And it would have expelled all American officials, military and political, who are in constant contact with traitors in Pakistan's leadership, to order and forbid. If these actions would have been taken and the head of the snake of insecurity, America, had been cut off, then this regime genuinely could have earned the respect and admiration of the people. However, the traitors in the political and military leadership will never take these actions and so the people of Pakistan and this region are not going to see a lasting and permanent peace and stability under their rule. Only the Khilafah will take these necessary steps to provide security for the Muslim Lands and cleanse them of all foreign hostile presence.

Media Office of Hizb ut-Tahrir in the Wilayah of Pakistan


جمعرات، 29 جمادی الاول ، 1436ھ                                  20/03/2015                              نمبرPR15022:

نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے

ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن  کا مقصدنیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدارثابت کرنا ہے

        راحیل-نواز حکومت نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن  نیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدار ثابت کرنے کے لئے شروع کیا ہے۔ حکومت نے یہ ایکشن اس لئے شروع کیا ہے  تاکہ   امت کو دھوکہ دیا جاسکے کہ امریکی تحریر کردہ نیشنل ایکشن پلان  خصوصاًاُن لوگوں کے خلاف نہیں ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے اسلام کی ترویج اور نفاذ کی کوششوں  سے جڑے ہوئے ہیں۔  لہٰذا ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن  کا بنیادی مقصد کراچی میں مسلح جرائم پیشہ افراد یا امریکی جاسوسوں اور قاتلوں کے گرفتاری کے ذریعے  امن کا قیام نہیں  بلکہ اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو غیر جاندار ثابت کر کے عوام کا اعتماد جیتنا ہے۔

        جب سے نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ شروع ہوا ہے حکومت کی ایجنسیوں  نے ملک بھر سے چوبیس ہزار آٹھ سو چوالیس(24844) چھاپوں میں پچیس ہزار آٹھ سو چھیانوے(25896) افراد کو گرفتار کیا  ہے۔ تین ہزار نو سو چھ(3906) افراد کو پولیس نے لاوڈ اسپیکر کے قانون کی خلاف ورزی  میں گرفتار کیا اور ان میں سے دو ہزار آٹھ سو چوہتر(2874) افراد کو صرف پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ نفرت پھیلانے والی تقاریر کرنے کے الزام میں سات سو سینتیس (737)مقدمات قائم کیے گئے اور اسی الزام کے تحت سات سو پینتالیس(745) افراد کو گرفتار اور انہتر (69)دکانوں کو بند کردیا گیا۔اس کے علاوہ مدارس میں غیر ملکی طلبہ کے داخلے  اور مدارس کے لئے بیرون ملک سے آنے والے چندوں،  چاہے وہ انفرادی ہوں یا کسی ریاست کی جانب سے،پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔

        اس صورتحال نے مذہبی جماعتوں اور علماءکرام میں شدید بے چینی پیدا کردی اور انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اِن تمام اقدامات کا ہدف صرف مذہبی لوگ ہیں جبکہ  سیکولر و قوم پرست جماعتوں اور ان کے مسلح دستوں کو کھلی چھوٹ فراہم کی گئی ہوئی ہے۔ 2 مارچ 2015 کو اتحادِ تنظیماتِ مدارس، جو کہ پانچ مذہبی  اداروں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے،نے مدارس کے خلاف حکومتی اقدامات کو سختی سےمسترد کردیا  ۔ انہوں نے حکومت کے "غیر آئینی" اقدامات کی حمایت کرنے سے بھی انکار کردیا کیونکہ  وہ استعماری طاقتوں کے منصوبوں  کی پیروی کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اسلام کے خلاف امریکہ اور مغرب کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  حکومت علماءکرام کی گرفتاریوں اور  مساجد میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کے ذریعے انہیں ہراساں کررہی ہے اور اس طرح اسلام کے خلاف  منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے سربراہ نے یہ کہا کہ صرف مدارس کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اِن پر چھاپوں کا سلسلہ ایک دن کے لئے بھی روکا نہیں گیا ہے۔

        نیشنل ایکشن پلان  سے نہ صرف علماء میں شدید ردعمل پیدا ہوا  بلکہ پاکستان بھر کے لوگوں میں بھی اس کے خلاف نفرت پیدا ہونی شروع ہوگئی۔ اس قسم کا غصہ حکومت اور واشنگٹن میں بیٹھے ان کے آقاوں کی اسلام کے خلاف جنگ  کے لئے خطرناک ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے تا کہ نیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدار ثابت کیا جائے اور یہ کہا جاسکے کہ نیشنل ایکشن پلان تمام قسم کے مجرموں کے خلاف ہے جیسا کہ وزیرِ اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے ساتھ ہی یہ بیان دیا کہ "کوئی مجرم چاہے کسی مدرسے میں ہو یا کسی سیاسی جماعت کے آفس میں، اسے گرفتار کیا جائے گا اور اگر اس دوران  کوئی بھی روکاٹ سامنے آئی تو اسے ہٹا دیا جائے گا"۔

        درحقیقت ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ایک دھوکہ ہے۔ اگر یہ حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں سنجیدہ ہوتی تو اس نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کو بند کیا ہوتا  جو  کراچی اور اس سے  بھی آگے بلوچستان  تک لسانی و فرقہ وارانہ نفرتوں کو پھیلانے کا مرکز ہے۔ حکومت نے ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے امریکی جاسوسوں کو گرفتار کیا ہوتا جو بم دھماکوں اور قتل و غارت کی وارداتوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پورا پاکستان بدامنی  اور افراتفری کی لپیٹ میں ہے۔ اور اگر یہ حکومت سنجیدہ ہوتی تو اس نے تمام امریکی سیاسی و فوجی اہلکاروں کو ملک سے نکال دیا ہوتا جو پاکستان کی قیادت میں موجود غداروں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں احکامات جاری کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔  اگر یہ تمام اقدامات اٹھائے جاتے اور عدم تحفط کے سانپ امریکہ کا سر کچل دیا گیا ہوتا تو یہ حکومت حقیقت میں لوگوں کی عزت اور تعریف کی مستحق ہوتی۔ لیکن سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار کبھی  بھی یہ اقدامات نہیں اٹھائیں گے اور اس طرح پاکستان اور خطے کے عوام کوان  غدار حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ایک مستقل امن اور استحکام دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔  صرف خلافت ہی اِن ضروری اقدامات کو اٹھائے گی ، مسلمانوں کے علاقوں  کو تحفظ فراہم کرے گی اور انہیں بیرونی دشمنوں کے وجود سے پاک کردے گی۔

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Today 3 visitors (10 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free