Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 28 07 2015 CMO Women

Issue No: 1436 AH / 060                        Tuesday, 12th Shawwal 1436 AH                       28/07/2015 CE

Press Release

So-called Men have Abandoned so Women Came Out from their Dwellings in Defense of Al-Aqsa

News agencies have reported that a large number of worshipers were injured on Sunday morning 26/7/2015 after Jewish forces supported by special units stormed Al-Aqsa Mosque, through the Moroccan Gate, to secure the entry of settlers and their celebrating of their alleged “Tisha B'Av” as it is called. On Sunday, Almorabitat (the stationed women of the Aqsa compound) topped the scene during the transgressions against the Al-Aqsa Mosque compound both within the Aqsa and at its gates after being barred from entering. They were assaulted and some were arrested.

Daily attacks on Al-Aqsa continue under the plain sight of the Islamic and international world, and we see women opposing them and defending the place of Israa’ of RasulAllah (saw) in a scene that has become common and a passing story on the news! Women are humiliated, beaten, detained, imprisoned and expelled from Al-Aqsa for varying periods and the so-called men, from the rulers and leaders, are hiding behind the drapes of opulence, humiliation and failure. Women came out from their Khadoor (dwellings) after they had despaired that the likes of Al-Mu'tasim will heed their call. Women left their hair accessories and kohl jars and went out as defenders for Al-Aqsa with their bodies and their thundering voices with Takbeers in the faces of the sinful aggressors. Some women cover their faces for fear of arrest; however, it is more fitting that the leaders and rulers cover their faces out of humiliation, disgrace and shame!

Oh soldiers and officers of the armies in the Islamic world: How degrading! Do the scenes of those unarmed women and their taking up your role in the defense of Al-Aqsa not hurt you and bleed your hearts! How can you bear seeing the Jewish soldiers and their impure hands extend to the Muslim sisters in humiliation, beatings and arrests while you stand submissively weak! How can you be satisfied that your role and the use of your weapons is restricted to military parades and the protection of the Excellencies and Highnesses and pursuing the one who says my Lord is Allah! Is there no longer in you the bravery of Al-Mu'tasim and the manliness of Khaled and Salah al-Din! Are you content with the medals, titles and ranks hanging from your shoulders after every attack on your brothers and sisters in Deen instead of your weapons pointing toward the enemies of the Deen! Or are you going to be satisfied by the issuance of flimsy denunciations and condemnations from some of the leaders and rulers, and say that we do what we are ordered to do!

An older proverb says "if a person is safe from punishment he will misbehave", and we had enough of the Jews crimes and their insults to Allah and His Messenger, His Deen, His holy sites and His worshippers without punishment or accountability, so what are you doing?! The land of Jerusalem that the companions and later your fathers irrigated with their blood and money in defense of it, you see it today desecrated; its land, its resources and its women, and you do not move a finger! What will you say when the Lord of Glory asks you and accounts you of your abandonment of the land of Islam and your requesting honor from the Kuffar and Mushrikeen, while Allah has made the honor belong to Him, to His Messenger, and to the believers ?!

Go back to the honor of Islam and discard your pride with sin and the like, and you will return to becoming the masters of the world instead of being its slaves. But if you are not from its people, than leave it for its people. And if you lose your manliness and your chivalry, the sisters of men will remain outside their Khadoor (dwellings) replacing you and taking your role in the defense of the place of Israa’ of RasulAllah (saw)!

﴿وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ﴾

“And Allah is predominant over His affair, but most of the people do not know.”

]Yusuf: 21[

Women's Section

in the Central Media Office of Hizb ut Tahrir


منگل، 12 شوال، 1436ھ                                28/07/2015                                نمبر1436 AH / 060:

مسجد الاقصیٰ کے دفاع سے نام نہاد مردوں کی دست برداری کے بعد خواتین اس کے دفاع کے لئے اپنے گھروں سے نکل آئیں

        نیوز ایجنسیوں نے یہ خبر شائع کی کہ 27 جولائی 2015 بروز اتوار کی صبح بڑی تعداد میں عبادت گزار زخمی ہو گئے جب یہودی افواج کے خصوصی دستوں نے مسجد الاقصیٰ پر باب المغاربۃ کی جانب سے یلغار کی تاکہ یہودی آباد کار اندر جا کر "ذكرى خراب الهيكل" کا جشن منا سکیں۔ اِس واقع میں المرابطات (الاقصیٰ کے احاطے کی خواتین) اُس وقت بہت نمایاں ہوئیں جب مسجد الاقصیٰ کے احاطے پر حملہ کیا گیا۔ ان خواتین کو اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا، ان پر حملہ کیا گیا اور کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا۔

        اسلامی اور بین الاقوامی دنیا کی آنکھوں کے سامنے الاقصیٰ پر روزانہ حملے کیے جاتے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا کہ خواتین نے اس حملے کے خلاف مزاحمت کی اور رسول اللہ کے مقام اسراء کا دفاع کیا اور یہ اس قدر افسوسناک منظر تھا کہ دنیا بھر میں خبروں کی زینت بن گیا۔ خواتین کی تذلیل کی گئی، انہیں مارا پیٹا گیا، گرفتار کیا گیا، قید میں ڈالا گیا اور انہیں الاقصیٰ سے کچھ عرصے کے لئے جلا وطن کر دیا گیا۔ لیکن جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو حکمرانوں اور رہنماوں میں موجود نام نہاد "مرد" ذلت و رسوائی اور ناکامی کا سامان لیے اپنے محلوں میں چھپے بیٹھے تھے۔ خواتین اپنے گھروں سے نکل آئیں جب وہ اس بات سے مایوس اور نامید ہوگئیں کہ کوئی معتصم ان کی پکار پر لبیک کہے گا۔ انہوں نے اپنی زینت و آرائش کے سامان کو چھوڑا اور اپنے جسموں اور تکبیر کی بلند آوازوں سے حملہ آوروں کے خلاف الاقصیٰ کا دفاع کرنے نکل آئیں۔ کچھ خواتین نے گرفتار کیے جانے کے خوف سے اپنے چہروں پر کپڑا ڈال رکھا تھا لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ حکمرانوں اور رہنماوں نے ذلت رسوائی اور بے شرمی کا پردہ اپنے چہروں پر ڈال رکھا ہے۔

        اے اسلامی دنیا کی افواج اور ان کے افسران! کس قدر رسوائی کا مقام ہے! کیا یہ منظر آپ کے لئےانتہائی تکلیف کا باعث نہیں اور آپ کا دل خون کے آنسو نہیں روتا کہ الاقصی کے دفاع کی وہ ذمہ داری جو درحقیقت آپ کی ہے، اس کی ادائیگی کے لئے خالی ہاتھ غیر مسلح خواتین میدان میں نکل آتی ہیں۔ آپ یہ منظر کس طرح دیکھ سکتے ہیں کہ یہودی فوجیوں کے ناپاک ہاتھ آپ کی مسلمان بہنوں پر اٹھتے ہیں، وہ انہیں مارتے ہیں، ذلیل کرتے ہیں اور گرفتار کرتے ہیں اور آپ کی غیرت نہیں جاگتی؟ آپ اپنے کردار سے کس طرح مطمئن ہوسکتے ہیں کہ آپ کے ہتھیار صرف فوجی نمائشوں میں لوگوں کی تفریح کے لئے پیش کیے جائیں اور غدار حکمرانوں کے دفاع کے لئے یا اسلام کے داعیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے استعمال کیے جائیں؟ کیا اب آپ میں کوئی المعتصم جیسا بہادر اور خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی جیسا "مرد" موجود نہیں؟ کیا آپ اپنے سینے پر لٹکنے والے میڈلز اور ملنے والے عہدوں اور خطاب سے مطمئن ہیں جبکہ آپ کے بہن بھائیوں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں؟ کیا آپ کے ہتھیاروں کا رخ آپ کے دین کے دشمنوں کی جانب نہیں ہونا چاہیے؟ یا آپ حکمرانوں اور رہنماوں کی جانب سے محض مزمتی بیانات سےاور اس بات سے کہ آپ کو جو حکم دیا جائے گا آپ وہی کریں گے، مطمئن ہیں؟

        ایک پرانی کہاوت ہے کہ "اگر کسی شخص کو سزا کا خوف نہ ہو تو وہ برا رویہ اختیار کرے گا"۔ ہم نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ، اس کے رسول ، اس کے دین، مقدس مقامات اور ان میں عبادات کرنے والوں کے خلاف یہود کے جرائم کا بہت سامنا کرلیا جس پر نہ تو ان کا احتساب کیا گیا اور نہ ہی انہیں ان کے جرائم پر سزا دی گئی، اس کے باوجود آپ کیا کر رہے ہیں؟ یروشلم کی سرزمین جس کی حفاظت صحابہ رضی اللہ عنہ اور بعد میں آپ کے آباؤ اجداد نے اپنے خون اور مال سے کیا، آج آپ اس کی سرزمین، اس کے وسائل اور اس کی خواتین کی بے حرمتی ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ انگلی تک نہیں ہلاتے۔ آپ اس وقت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے جب وہ آپ کا احتساب کریں گے اور آپ سے پوچھیں گے کہ کیوں تم نے اسلام کی سرزمین سے دستبرداری اختیار کر لی تھی اور کیوں تم کفار اور مشرکین سے عزت کےطلبگار ہوتے تھے جبکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ سبحانہ و تعالیٰ، اس کے رسول اور مؤمنین کے لیے مخصوص ہے؟

        اگر آپ اسلام کے حوالےسے عزت کے طلبگار بنیں گے اور گناہ پر فخر کرنا چھوڑ دیں گے تو آپ کی حیثیت و مقام غلام کی نہیں بلکہ ایک بار پھر دنیا کے امامت کرنے والی بن جائے گی۔ اور اگر آپ اپنی مردانگی بھول چکے ہیں تو مردوں جیسی خواتین آپ کی جگہ اپنے گھروں سے باہر رہیں گی اور رسول اللہ کے مقام اسراء کی حفاظت کرنے کی آپ کی ذمہ داری کو وہ ادا کریں گی۔

﴿وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ

"اللہ اپنے امور پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"


شعبہ خواتین

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

Today 9 visitors (128 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free