Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 02 01 2013 CMO

Issue No: N0: 1434 AH/11                      Wednesday, 19th of Saffar, 1434H                      02/01/2013 CE

Press Release

India the “World’s Largest Democratic country” Fails to Protects it's Women

On Friday 28th December 2012, the 23 year old Indian medical student who was the victim of a brutal assault and gang raped by six men on a bus in Delhi on the 16th of December 2012 died from her injuries. Her case sparked mass protests across India against the Indian police and government’s negligence and lackadaisical attitude towards the protection of women from sexual violence. Rape is at epidemic levels, an everyday occurrence and the fastest growing crime in India, the world’s largest democracy. Many sexual attacks go unreported due to large numbers of women having lost all faith in the system to protect their dignity as a consequence of the scale of the problem, a culture of impunity afforded to offenders by police, cases that drag on for years through the courts, and abysmal conviction rates. According to Al-Jazeera, a woman is raped every 20 minutes in India, and 24,000 rape cases were reported last year alone. The media outlet also reported that 80% of women in Delhi had been sexually harassed, while “The Times of India” has reported that rape in India has increased by a staggering 792% over the past 40 years.

Dr. Nazreen Nawaz, Member of The Central Media Office of Hizb ut Tahrir commented,

“While Western governments continue to export ‘Democracy’ to the Muslim world as the best system to secure women’s dignity and rights, the world’s largest democratic country has failed spectacularly to protect its women. The atrocious level of sexual crimes against women, the lax attitudes by police towards guarding their dignity, and the apathy of the Indian government in ensuring their security is the result of the routine, systematic devaluing of women by the liberal culture celebrated by the state and embodied in the Bollywood entertainment industry. This Bollywood culture, along with other entertainment, advertising, and pornography industries sanctioned by India’s secular liberal democratic system have presented the woman as an object to play to the desires of men, sexualized society, encouraged individuals to pursue their selfish carnal desires, and promoted extra-marital relationships, nurturing a culture of promiscuity and cheapening the relationships between men and women. All this has desensitized the disgust that should be felt towards the violation of women’s dignity in the minds of many men. It is therefore no surprise that the country is playing a close catch-up to other liberal states such as the US and the UK that are amongst global leaders of violence against women. The democratic secular liberal system under which half its population live in fear is no model for the Muslim world to embrace.”

“It is Islam, implemented comprehensively by the Khilafah system that offers a robust, sound approach to safeguarding the dignity of women. Islam rejects liberal freedoms and rather promotes taqwa (God-consciousness) within society that nurtures a mentality of accountability in the manner by which men view and treat women. It prohibits the sexualisation of society as well as all forms of objectification and exploitation of women’s bodies, such that the relationship between the sexes is never cheapened or the woman devalued. It celebrates a comprehensive social system that regulates the relationship between men and women, and includes a modest dress code, the segregation of the genders, and prohibition of extramarital relationships – all of which directs the fulfillment of the sexual desires to marriage alone, protecting women and society. All this is implemented under the umbrella of the Khilafah system that obliges an efficient judicial system to deal with crimes swiftly as well as applying harsh punishments such as lashing for slander against women, or even the death-penalty for the violation of a woman’s dignity. It is a state where a single dishonourable glance, word, or act against a woman is considered a crime and would not be tolerated, creating a safe society for them to study, work, travel, and live. We therefore call the women of the Muslim world to embrace the Khilafah as the system that embodies the credible principles, policies and laws to safeguard their dignity and wellbeing.”

Dr. Nazreen Nawaz

The Member Central Media Office of Hizb ut-Tahrir

بدھ19  صفر، 1434ھ                                                   02/01/2013                                نمبر: 1434 AH/11

ہندوستان "دنیا کاسب سے بڑا جمہوری ملک" اپنی خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام ہو گیا

جمعہ، 28 دسمبر 2012 کو 23 سالہ ہندوستانی میڈیکل سٹوڈنٹ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی، جسے 16 دسمبر کو دہلی کی ایک بس میں چھ آدمیوں نے بدترین تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے نے پورے ہندوستان میں، ہندوستانی پولیس اور حکومت کی غفلت اور خواتین کے جنسی تشدد سے بچائو کے معاملے پر ان کی سست روی کے خلاف مظاہروں کی آگ بھڑکا دی۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، ہندوستان میں زنا بل جبر ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ درندگی روزمرہ کا معمول بن گیا ہے اور ہندستان میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا جرم ہے۔ لاتعداد جنسی حملوں کی تو رپورٹ ہی درج نہیں کرائی جاتی کیونکہ خواتین اپنی عزتوں کے تحفظ کے سلسلے میں اس نظام پر بالکل اعتماد نہیں کرتیں۔ اسکی ایک وجہ تو اتنے بڑے پیمانے پر اس مسئلے کا پایا جانا ہے، دوسرا یہ کہ عموماً پولیس کی جانب سے مجرموں کو تحفظ دیا جاتا ہے، نیز یہ مقدمے سالہاسال عدالتوں میں التوا کا شکار رہتے ہیں اور سزاؤں کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، ہندوستان میں ہر 20 منٹ کے بعد ایک عورت کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے اور صرف گزشتہ سال میں ہی زیادتی کے 24,000 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسی ذرائع ابلاغ کے ادارے نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ دہلی کی 80% خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جا چکا ہے۔ جبکہ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چالیس سالوں کے دوران زیادتی کے واقعات میں حیرت انگیز طور پر 792% اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر نسرین نواز، ممبر مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر، نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ایک طرف تو مغرب مسلسل 'جمہوریت ' کو خواتین کے حقوق اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے بہترین نظام قرار دے کر اسے مسلم ممالک کو برآمد کر رہا ہے تو دوسری طرف دنیا کا سب سے بڑاجمہوری ملک اپنی خواتین کی حفاظت میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی شرح میں ظالمانہ اضافہ، پولیس کی طرف سے ان کی عزت کی حفاظت کے بارے میں لاپرواہی برتنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں حکومتی بے حسی دراصل اس لبرل ثقافت کاشاخسانہ ہے جسے بالی ووڈ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی صورت میں ریاستی سطح پر خوب اچھالا جاتا ہے اور اس کے گن گائے جاتے ہیں؛ کیونکہ اسی کے نتیجے میں خواتین کو ہر روز منظم طریقے سے بے وقعت کیا جا رہا ہے۔ اس بالی ووڈ ثقافت اور انٹرٹینمنٹ کے دیگرذرائع مثلاً اشتہاروں اور پورنوگرافی انڈسٹری نے، جس کی ہندوستان کے سیکولر لبرل جمہوری نظام نے اجازت دے رکھی ہے، عورت کو مردوں کی خواہشات پر ایک کھلونا بنا کر پیش کیاہے۔ انہوں نے معاشرے کو جنسی ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے اور افراد کو اپنی جنسی خواہشات کے پیچھے بھاگنے کی ترغیب دی ہے۔ یہ غیر ازدواجی تعلقات کو فروغ دیتے ہیں اور عورت اور مرد کے مابین رشتوں کو سستی شے بنا کر فحاشی کومزید پھیلا رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال نے بے شمار مردوں کو بے حس کر دیا ہے یہاں تک کہ انہیں خواتین کی عصمت دری پر جو غم وغصہ محسوس ہونا چاہئے، وہ اس سے کوسوں دور ہیں۔ چنانچہ یہ ہرگز باعث حیرت نہیں یہ ملک اب امریکہ اور برطانیہ جیسی لبرل ریاستوں کی برابری کرتا دکھائی دیتا ہے جو خواتین کے خلاف تشدد میں عالمی رہنما ہیں۔ یہ جمہوری سیکولر لبرل نظام جہاں کی نصف آبادی خوف میں زندگی گزار رہی ہے، مسلم دنیا کے لیے ہرگز قابل قبول نمونہ نہیں۔"

"یہ اسلام ہی ہے، جسے نظام خلافت کے تحت مکمل اور ہمہ گیر طورپر نافذ کیا جاتا ہے، جو خواتین کے عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور درست نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ اسلام لبرل آزادیوں کو مسترد کرتا ہے اور معاشرے میں تقویٰ (خدا خوفی) کو فروغ دیتا ہے جس کے نتیجے میں مردوں کے خواتین کے ساتھ سلوک اور رویے سے متعلق جوابدہی کی ذہنیت اورفضا پیدا ہوتی ہے۔ اسلام معاشرے میں جنسی مظاہر پھیلانے، نیز عورت کے استحصال اور کسی بھی طریقے سے اسے ایک شے کی حیثیت دینے کو حرام قرار دیتا ہے، چنانچہ عورت اور مرد کے مابین رشتے نہ تو بے وقعت ہوتے ہیں اور نہ ہی عورت کی قدر میں کوئی کمی آتی ہے۔ اسلام ایک مکمل اور ہمہ گیر معاشرتی نظام پیش کرتا ہے جو عورت اور مرد کے تعلق کو منظم کرتا ہے اور جس میں ایک باحیا لباس، دونوں صنفوں کے درمیان علیحدگی اور غیر ازدواجی تعلقات کے حرام ہونے کے قوانین شامل ہیں۔ پس جنسی خواہشات کو نکاح تک محدود کرنے سے عورت اور معاشرے کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ یہ سب اس نظام خلافت کے سائے تلے نافذ کیا جاتا ہے جہاں ایک مستعد عدالتی نظام اپنا فرض سمجھ کر جرائم کو تیزی سے نمٹاتا ہے اور سخت ترین سزائیں نافذ کرتا ہے مثلاً خواتین کے خلاف بہتان کی سزا دُرے لگانا ہے، یہاں تک کہ اسکی عصمت دری پر سزائے موت تک دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں عورت پر ایک غلط نظر ڈالنا، اسکے خلاف غلط لفظ زبان سے نکالنا یا کوئی حرکت کرنا بھی سنگین جرم سمجھاجاتا ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاتا، نتیجتاً ان کی تعلیم، ملازمت، سفر اور زندگی گزارنے کے لیے ایک محفوظ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ لہٰذا ہم مسلم دنیا کی خواتین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خلافت کو بحیثیت نظام اپنائیں جو ان کی دیکھ بھال اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد اصولوں، پالیسیوں اور قوانین  پر مشتمل ہے"۔

ڈاکٹر نسرین نواز

ممبر مرکزی میڈیا آفس، حزب التحریر

Today 9 visitors (142 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free