Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 22 04 2013 CMO

Issue No :1434 AH /45               Monday, 12 Jumada Al-Thani 1434 AH              22-04-2013 CE

Indeed Brahimi,

The Syrian Crisis is the Most Dangerous Crisis in the World!

Because It will Culminate with the Establishment of the Righteous Khalifah, Allah willing

On Friday 10th of April 2013, Lakhdar Brahimi called for the International Security Council to unify its position to stop the conflict in Syria, announcing that the Syrian conflict is the most dangerous conflict in the world. This announcement coincided with the many statements from American administration officials warning against arming the rebels in ash-Sham, fearing that the arms would fall into the hands of extremists. Likewise, as revealed in The Wall Street Journal article that high-ranking officials in the Obama administration had surprised some of the representatives and allies in the latest weeks with a modified vision pertaining to the Syrian revolution: They do not want a decisive military victory for the rebels now, because they believe, according to one of the high officials, that "the good guys" would not come out on top and they would not be at the forefront. And the report quoted officials as saying that it would take minute maneuvering to curb the influence of extremists and buy time to strengthen the moderate rebels that the Western governments hope to assume leadership if they can convince President Assad to leave. John Kerry said before the US Senate that “we are trying to advance carefully to make sure that we do not cause more chaos,” adding that "the extremists that are receiving funds and are taking part in the battle surely constitute a danger, and we have to try to exclude them if possible.”

While the German Foreign Minister Guido Westerwelle confirmed that “the Syrian opposition should distance itself from the terrorist and extremist forces.” And even France, which had previously called for the lift of the arms embargo that had been ordered by the European Union on Syria, insisting that it was the only guaranteed procedure to outweigh the military balance in interest of the opposition, declined, considering that the conditions are on the ground "not available" to deliver weapons.” And the French Foreign Minister Laurent Fabius warned before the deputy members of the Foreign Affairs Committee of the European Parliament in Strasbourg: “If we let the situation continue, Syria will face the risk of disintegration that will result in its split from the fallout on the regional level, where the crisis will not be a local Syrian problem, if we assume that the division of Syrians has not yet begun. Under such a circumstance, the extremist will be the victors,” and he warned "If the militant groups that are loyal to Al-Qaida are able to reach the heart of the balance of power, then the risk of instability will reach Jordan, Lebanon, and Turkey. One has to consider that the consequences will also reach the front of the Arab-Israeli conflict.” The Prime Minister of the Jewish entity Benjamin Netanyahu has warned in a statement against a rebel takeover: “The weapons present in Syria, and these are the anti-aircraft weapons, chemical weapons and other extremely dangerous weapons, could change the rules of the game,” and he added, “they are going to change the conditions, they are going to change the balance of power in the Middle East.. They could pose a terrorist threat on a global level.”

The prudent observer has the right to question: What are the links between all these positions? Why did we not hear something from the Arab Spring uprisings that preceded in Tunisia, Egypt, Libya and Yemen? And what has distinguished the Syrian Revolution from the others??

And the answer: In the previous uprisings the West had succeeded in its containment and riding of the wave and controlling its course, and they have failed, until now, to break the dependency on the western countries, and there was the formulation of a new "Revolutionary" covenant that does not constitute a threat to Western interests, and does not present a civilized model that the people of the world would aspire to wrest itself from the tragedies of the Western World Order. Had the leaders of the West been able to find a "Karzai" to hold the reigns of the revolution in Syria and guarantee the formulation of the period after the Assad regime to serve their own interest, the issue would not have required two years of bloody repression that has been unseen before in history, except for its precedent Nero who lacked scud Scot missiles, and even Stalin did not use rockets over the heads of its people in Russian cities...

But their declarations, which we have conveyed a side of, reveal the truth of their fear that the Sham revolution will be successful in that which the uprisings of the Arab Spring had failed: Namely, the establishment of a Caliphate state that will break the dependency on the Western Countries, and liberate the Ummah from its colonization, and raise the banner of Tawheed, There is no god but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah, and will build the Islamic society to be the world’s Qiblah, and there is nothing which Allah cannot overcome.

Finally, we assure them all that the Khilafah is imminent with Allah's Will. And entire region of ash-Sham will be under the authority of the coming Khilafah, Insha'Allah.

Osman Bakhach

Director of The Central Media Office

of Hizb ut Tahrir

پیر،12 جمادی الثانی، 1434ھ                                               22/04/2013                                نمبر: 1434 AH/45

ہاں ابراہیمی صاحب! شامی بحران دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک ہے،

کیونکہ اللہ کے اذن سے عنقریب اس کو قیامِ خلافت کا تاج پہنایا جائے گا

الاخضر ابراہیمی نے 19 اپریل 2013 کو جمعہ کے دن انٹرنیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا تاکہ شام میں تنازع کے خاتمہ پر ایک موقف اختیار کیا جائے اور یہ اعلان کیا کہ شام کا بحران دنیاکا خطرناک ترین بحران ہے۔ یہ بیان امریکی انتظامیہ کے متعدد ذمہ دار شخصیات کے بیانات کے ساتھ ہی آیا، جن میں شامی انقلابیوں کو مسلح کرنے کے نتیجے میں اس خطرے سے متنبہ کیا گیاہے کہ یہ اسلحہ انتہاء پسندوں کے ہاتھوں لگ سکتا ہے۔ جیسا کہ وال سٹریٹ جرنل نے اپنی ایک مضمون میں یہ انکشاف کیا کہ عوامی نمائندوں اور اتحادیوں نے پچھلے چند ہفتوں میں اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے شامی انقلاب کے حوالے سے نقطہ نظر میں ہونے والی تبدیلی پر حیران ہیں اور ایک اعلی افسر کے حوالے سے بتایا کہ وہ ابھی باغیوں کو فیصلہ کن عسکری فتح دلانے کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں "اچھے لوگ" سامنے نہیں آئیں گے۔ اس مضمون میں ذمہ اہلکاروں کے حوالے سے یہ بات بھی نقل کی گئی ہے کہ انتہاء پسندوں کے نفوذ کو لگام دینے اور اعتدال پسند انقلابیوں، جن کے قیادت لینے کے بارے میں مغربی حکومتوں نے اُمیدیں لگائی ہیں، کو تقویت پہنچانے کیلئے وقت لینے میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اگر اسد اقتدار چھوڑنے پر راضی ہو جائے۔ اسی طرح سینیٹر جان کیری نے امریکی سینیٹ کے سامنے کہا "ہم انتہائی احتیاط کے ساتھ اس بات کی یقین دہانی کے ساتھ پیش رفت کر رہے ہیں کہ ہم مزید لاقانونیت کاسبب نہیں بنیں گے"۔ اس نے مزید کہا کہ "وہ انتہأ پسند جو امداد لے ر ہے ہیں اور اس معرکہ میں شریک ہیں، یقیناخطرے کا باعث ہیں اور ہمیں چاہئے کہ اگر ممکن ہو تو ان کو اس معاملے سے دور رکھا جائے"۔

دریں اثناجرمن وزیر خارجہ جیدو وسٹرویلے (Guido westerwelle) نے اس بات پر زور دیا کہ "شامی اپوزیشن کو دہشتگرد اور انتہأ پسند قوتوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہو گا"۔ حتی ٰ کہ فرانس، جس نے شام پر یورپی یونین کی لگائی ہوئی اسلحہ کی پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ کہاتھا کہ اپوزیشن کے مفاد میں عسکری توازن ان کے حق میں بدلنے کیلئے یہی ایک پر اعتماد عمل ہے، وہ بھی اب یہ کہتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا کہ وہاں اسلحہ کی فراہمی کے لئے زمینی حالات ناموافق ہیں۔ اور فرانس کے وزیر خارجہ لورنٹ فبیوس (Laurent Fabius) نے سٹراسبرگ میں یورپین پارلیمنٹ کے کمیٹی برائے خارجہ امور کے ارکان کے سامنے یہ کہتے ہوئے متنبہ کیا کہ "اگر ہم نے ان حالات کو یوں ہی چھوڑے رکھا تو عنقریب شام خلفشار کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا، پھر اس کی تقسیم سے علاقائی سطح پر اثرات مرتب ہوں گے، اور پھر شام کابحران صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہے گا، یہ بات بھی تب ہے اگر ہم فرض کر سکیں کہ اب تک شام کی تقسیم کی ابتداء نہیں ہوئی ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں انتہأ پسندوں کو ہی کامیابی ملے گی"۔ اور اس نے خبردار کیا کہ "اگر القاعدہ کی حامی تشدد پسند تنظیمیں طاقت کے توازن کے مرکز تک پہنچ گئی تو پھر عدم استحکام کے خطرات اردن، لبنان اور ترکی تک پھیل جائیں گے اور اس بارے میں غوروفکر کی ضرورت ہے کہ اس کے نتائج عرب اسرائیل کے تنازع تک پہنچ جائیں گے"۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے بھی انتہأ پسندوں کے اقتدار پر قبضے کے بارے میں اپنے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ "انقلابیوں کا شام میں موجود اسلحہ، جو انٹی ائر کرافٹ، کیمیاوی اسلحہ اور دوسرے انتہائی خطرناک اسلحہ پر مشتمل ہے، پر کنٹرول کھیل کو بدل کر رکھ دے گا''۔ اس نے مزید کہا "وہ حالات کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں، وہ مشرق وسطی ٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں اوریہ ممکن ہے کہ وہ عالمی سطح پر دہشگردی کے خطرات پیدا کر دیں"۔

ایک پختہ کار مشاہدہ کرنے والا یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے: کہ ان تمام بیانات کے درمیان کیا تعلق ہے جو انہیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے؟ ہم نے ان جیسے بیانات کو تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں گزشتہ عرب بہار کے انقلابات میں کیوں نہیں سنا؟ وہ کیاچیز ہے جو شام کے انقلاب کو دوسروں سے جدا کرتا ہے؟

تو اس کاجواب یہ ہے کہ: دیگر انقلابات پر مغرب اپنا کنٹرول رکھنے، ان کارخ متعین کرنے اور ان کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیاب تھا، اور یہ ممالک اب تک مغربی ممالک پر انحصار کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ اور ان انقلابات کواس طرح ڈھالا گیا کہ جس سے مغربی مفادات کیلئے نہ تو کوئی خطرہ پیدا ہو اور نہ ہی دنیا والوں کیلئے مغربی عالمی بحران سے نکلنے کیلئے کوئی ایسا تہذیبی نمونہ سامنے آیا جس کی خواہش وہ رکھتے ہیں۔

اگر مغربی قیادت شام میں انقلاب کی بھاگ ڈور سنبھالنے والے کرزئی کی طرح کسی کو سامنے لاسکتے جو انہیں اسد حکومت کے گرنے کے بعد ان کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت دے تو اس شامی معاملہ سے نمٹنے کیلئے خونریزی کے ان دو سالوں کی ضرورت نہ پڑتی جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی سوائے نیرو کے کہ جس کے پاس استعمال کرنے کیلئے سکڈ میزائل موجود نہیں تھے، بلکہ سٹالن نے بھی روسیوں کے سروں پر گرانے کیلئے میزائل استعمال نہیں کئے۔

مگر ان کے بیانات سے جن کا کچھ حصہ ہم نے نقل کیا یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ انہیں یہ خوف پریشان کر رہا ہے کہ شام کا انقلاب وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جس کو عرب بہار کے دیگر انقلابات حاصل کرنے میں ناکام ہوئے تھے اور وہ کامیابی ریاست خلافت کاقیام ہے جو مغربی ممالک کی ماتحتی کے حصار کو توڑ دے گی اور امت کو استعماریوں سے آزادی دلائے گی۔ اور علم توحید، کہ اللہ کے سوأ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، بلند کرے گی اور ایک اسلامی معاشرے کو قائم کرے گی جو دنیا کیلئے ایک قبلہ ہو گااور ایسی کوئی مشکل نہیں جسے اللہ سبحانہ و تعالی دور نہ کر سکتے ہوں۔

آخر میں ہم ان سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے خلافت ضرور قائم ہوگی اور شام کی پوری سرزمین، ریاست خلافت کے اقتدار تلے آئے گی،ان شاء اللہ۔

عثمان بخاش

ڈائرکٹر مرکزی میڈیاآفس حزب التحریر

ٹیلی فون: 009611307594 ,موبائل: 0096171724043

ای میل:
Today 4 visitors (28 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free