Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 07 08 2015 CMO

Friday, 22nd Shawwal 1436 AH                          07/08/2015 CE                           IssueNo: 1436 AH / 065

Press Release

Who will shelter Rohingya women and children from flooded refugee camps following Cyclone Komen's destruction of Rakhine State?

Recent media reports have revealed that Rohingya Muslims, including women and children attempting to take shelter in abandoned schools and community centres from tropical Cyclone Komen and heavy monsoon rains that submerged their villages and refugee camps in the township of Kyauktaw, Myanmar, were turned away by the state’s police and army. Myanmar security personnel aggressively turned Rohingya families out of these flood shelters, claiming that these buildings were meant to shelter ‘those who belong to this country’, in a reference to the Rohingya Buddhist population. Forced to flee, the Rohingya went to higher uninhabitable and hazardous areas in the hills seeking shelter. Consequently women and children were exposed to monsoon rains and extremely dangerous cyclone conditions. Accounts have also emerged of Rohingya Muslims who fled to these highlands being threatened by ethnic Buddhists to return to their flooded homes or face dire consequences. The Burma Times also reported on 4th August that Rohingya children, who have fallen sick due to the cyclone and floods, are being refused treatment by local hospitals in the country, leading to a number of deaths. It wrote that local hospital authorities are stating that they will not give treatment to Muslims as they are foreigners, and the facilities are only for Rakhine’s Buddhist population. According to the paper, 7 year old Abdul Malik, 5 year old Abdul Karim, 5 year old Mohammad Anis, and 5 year old Elam Bahor died due to this withholding of medical treatment. Pregnant Rohingya women are also enduring unbearable suffering due to the lack of medical care.

Myanmar security and government officials in the Rakhine state continue to behave in the most barbaric of ways towards Rohingya Muslim women and children. Their appalling treatment of these vulnerable people reflects their genocidal policies that aim to remove the existence of the Rohingya Muslims from the Arakan region. Myanmar’s conscienceless regime was aware in advance from meteorological forecasts and reports of where and when Cyclone Komen would hit. However, they failed to give any advanced warnings to the Muslims of Arakan, preferring the Rohingya to become helpless victims of the floods, abandoned in dangerous conditions or subject to violence from surrounding ethnic Buddhists.

The intolerable suffering of Rohingya women and children continues in ways unimaginable. Yet all that emerges from international organisations and Western governments is hollow words of condemnation against Myanmar’s brutal regime. The regimes of the Muslim world on the other hand, including those neighbouring Myanmar such as Bangladesh, Malaysia, and Indonesia have washed their hands of the Rohingya women and children, forsaking their Islamic and human duty towards them in the name of preserving their own selfish national interests. These Muslim rulers and their nationalistic, capitalistic systems have been an iron chain around the neck of this Ummah. They need to be removed urgently and the Khilafah upon the method of the Prophethood established which will work to save the life, property and honor of the Muslims, regardless of their nationality. It is a system under which the Khalifah Al-Walid ibn Abd al-Malik sent Muslim armies under the leadership of General Muhammad Bin Qasim to rescue Muslim women and children who were captured by a Hindu Raja Dahir in southern India, which resulted in the liberation of the whole area of Sindh from the despotic Hindu rule. Such a Khilafah state is needed again urgently to rescue the poor Rohingya Muslims from the oppression of the Buddhists.

﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

“What has happened to you that you do not fight in the way of Allah and for the oppressed among men, women and children who say, "Our Lord, take us out from this town whose people are cruel. And make for us from Your own a supporter, and make for us from Your own a helper.”

[Surah an-Nisa: 75]

Women’s Section

in The Central Media Office of Hizb ut Tahrir


بدھ، 22 شوال، 1436ھ                                  07/08/2015                                نمبر1436 AH / 065:

اراکان کی ریاست میں سائیکلون کومین کے نتیجے میں پناہ گزین کیمپوں میں بڑی تعداد میں آنے والے روہنگیا عورتوں اور بچوں کو کون پناہ فراہم کرے گا؟

        حالیہ دنوں میں میڈیا کی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ روہنگیا مسلمان، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، سائیکلون کومین اور اس سے ہونے والی زبردست مون سون بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے باعث جس میں ان کے گاؤں ڈوب گئے میانمار کے شہر "کیاکتو" میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن ریاست کی پولیس اور فوج نے انہیں واپس بھیج دیا۔ میانمار کی سیکیوریٹی فورسز نے روہنگیا خاندانوں کو سختی سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ "یہ جگہ صرف ان لوگوں کے لئے ہےجو اس ملک سے تعلق رکھتے ہیں" یعنی روہنگیا کی بدھسٹ آبادی۔ زبردستی نکال دیے جانے کے بعد روہنگیا مسلمان پناہ کے لئے پہاڑوں کی جانب چلے گئے جو ناقابل رہائش اورخطرناک جگہ ہے۔ اس صورتحال میں عورتیں اور بچے مون سون بارشوں اور خطرناک سائیکلون کے رحم وکرم پر تھے۔ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ پہاڑوں کی جانب جانے والے روہنگیا مسلمانوں کو بدھسٹوں نے واپس اپنے سیلاب زدہ گھروں میں جانے پر مجبور کیا اور ایسا نہ کرنے پر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں۔ برما ٹائمز نے 4 اگست کو یہ خبر شائع کی سائیکلون اور سیلاب کے نتیجے میں بیمار ہونے والے روہنگیا مسلمان بچوں کا علاج کرنے سے مقامی ہسپتالوں نے انکار کر دیا اور اس طرح کئی بچے ہلاک ہوگئے۔ اخبار نے لکھا کہ مقامی ہسپتال کی انتظامیہ یہ کہہ رہی ہے کہ وہ مسلمانوں کا علاج نہیں کریں گے کیونکہ وہ غیر ملکی ہیں اور یہ سہولیات صرف اراکان کی بدھسٹ آبادی کے لئے ہیں۔ اخبار کے مطابق علاج نہ کرنے کے نتیجے میں سات سالہ عبدالمالک، پانچ سالہ عبدالکریم، پانچ سالہ محمد انیس اور پانچ سالہ علام باھور موت کے منہ میں چلے گئے۔ حاملہ روہنگیا عورتیں بھی طبی سہولیات کے نہ ملنے کے سبب شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

        اراکان کی ریاست میں میانمار کی سیکیوریٹی فورسز اور حکومتی اہلکاروں کا روہنگیا مسلمان عورتوں اور بچوں کے ساتھ سلوک انتہائی وحشیانہ اور غیر انسانی ہے۔ ان غیر محفوظ لوگوں کی جانب ان کا یہ سلوک میانمار کی حکومت کی نسل کشی پر مبنی پالیسی کو آشکار کرتا ہے جس کا مقصد اراکان کے علاقے سے روہنگیا مسلمانوں کے وجود کا خاتمہ کرنا ہے۔ میانمار کی بے ضمیر حکومت پہلے سے موسمی پیش گوئی کے متعلق جانتی تھی کہ کب اور کہاں سائیکلون کومین ٹکرائے گا۔ لیکن انہوں نے اراکان کے مسلمانوں کو پہلے سے اس خطرے سے خبردار نہیں کیا تاکہ وہ سیلاب اور آس پاس موجود بدھسٹ آبادی کے پرتشدد رویے کا شکار ہو جائیں۔

        روہنگیا مسلمان عورتوں اور بچوں کی ناقابل براشت مصائب و مشکلات ناقابل یقین طریقوں سے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ لیکن اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود بین الاقوامی اداروں اور مغربی حکومتوں کی جانب سے میانمار کی وحشی اور ظالم حکومت کے خلاف محض نمائشی مذمتی بیان ہی جاری کیے گئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب مسلم دنیا کی حکومتوں جس میں میانمار کے پڑوسی مسلم ممالک بنگلادیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں، نے روہنگیا عورتوں اور بچوں سے دستبرداری اختیار کرلی ہے اور اپنی اسلامی اور انسانی  ذمہ داری سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور یہ سب کچھ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے نام پر کیا جارہا ہے۔ یہ مسلم حکمران اور ان کے قومی اور سرمایہ دارانہ نظام مسلمانوں کی گردنوں پر لوہے کے پھندے ثابت ہو رہے ہیں۔ اس پھندے کو فوری ہٹایا جانا اور نبوت کے طریقے پر خلافت کا قائم کیا جانا انتہائی ضروری ہے جو قومیت سے قطع نظر مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے گی۔ یہ وہ نظام ہے جس میں خلیفہ الوليد بن عبد الملك نے جنرل محمد بن قاسم کی قیادت میں مسلم افواج مسلمان عورتوں اور بچوں کو بچانے کے لئےبھیجیں جنہیں ہندو راجہ داہر نے جنوبی ہند میں قید کرلیا تھا اور اس کے نتیجے میں پورے سندھ  کو ظالم ہندو حکمرانی سے نجات ملی۔ اسی طرح کی ریاست خلافت کے ایک بار پھر ضرورت ہے جو کمزور روہنگیا مسلمانوں کو بدھسٹوں کے مظالم سے نجات دلائے۔

﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

"بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کی نجات کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا"


مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

شعبہ خواتین

Today 83 visitors (266 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free