Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

Earthquake in Pakistan


Tuesday, 14th Muharram 1437                           27/10/2015 CE                           No: PR15078

Press Release

Earthquake in Pakistan

Earthquake Crisis Exposes the Decades of the Neglect of Our Affairs by Democracy

On 26th October 2015, a powerful earth quake jolted Pakistan which resulted so far in the deaths of at least 230, with hundreds wounded and thousands of buildings collapsed. Hizb ut-Tahrir prays to Allah swt that He forgives the departed souls, grants patience to their relatives, heals the wounded and compensates the material losses of the people (Ameen). Indeed, no one can prevent these natural calamities from happening but Islam has ordered us to prepare ourselves before the advent of any such calamity. However, it is apparent that the current rulers do neither know their Shari obligations nor consider themselves as responsible to look after the people's affairs. Since the creation of Pakistan, traitors within the political and military leadership have never worked to provide adequate medical facilities, properly constructed houses and roads for access. Nor have they established any system which ensures the security of the people in emergencies.

On 8th October 2005, Pakistan experienced its worst ever earthquake and at that time, it was clear that the state does not have any mechanism to face such calamities and their aftermath. After that earthquake, rulers took pride in announcing the establishment of a National Disaster Management Authority (NDMA) and claimed that now the state will be ready to face any such emergency in future. However, the recent earthquake showed there was no evidence of the NDMA’s presence and once again we saw rampant chaos and neglect. The people afflicted by this calamity are again saying that the state is not here to help them and people are being forced to help themselves.  So we see that in order to fight the so-called war on terror not only was our army's manual, the “Green Book,” changed, all necessary resources were made available and a structure was established to practically realize America's interests. However, when it comes to the affairs of the people, rulers just announced the establishment of NDMA and did not care to provide it with the resources and planning to make it work.

Hizb ut-Tahrir appeals to all Muslims that they must come forward and help their brothers and sisters in this difficult time, as they did ten years ago. Also Hizb ut-Tahrir calls upon all Muslims to join the struggle of the establishment of the Khilafah, which cared about the affairs of the living to the extent that a Khaleefah Rashid Umar R.A said, “If an animal, in the land of Iraq trips, I would be afraid that Allah (swt) would account me, for not fixing the road for it.” Such deep compassion exists in the Khaleefah of the Muslims because RasulAllah saaw said,

مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ

There is no Wali who takes charge of Muslims and dies cheating them, except that Allah prohibits him paradise.” [Bukhari]

The Muslims of Pakistan must consider that whether they are ruled by democracy or  dictatorship, their affairs are neglected because both civilian and military rulers do not consider themselves answerable to Allah (swt) and are only their to achieving their personal interests, whilst securing the interests of their colonialist masters. In the Khilafah, the ruler, Khaleefah, is bound to implement the rules of Islam and is accountable before both the Muslims and Allah (swt). The Muslims of Pakistan must join the struggle of Hizb ut-Tahrir for the establishment of Khilafah, in order to implement Allah’s Deen on Allah’s Earth, securing their affairs according to their right.

Shahzad Shaikh

Deputy to the spokesman of Hizb ut-Tahrir in the Wilayah of Pakistan

منگل، 14 محرم، 1437ھ                                27/10/2015                                نمبرPR15078 :

پاکستان میں زلزلہ

زلزلے کے بحران نے جمہوری نظام کی عوام کے امور سےکئی دہائیوں کی لاپرواہی کو بے نقاب کیا ہے

        کل بروز پیر، 26 اکتوبر 2015 کو پاکستان میں آنے والے زلزلے میں اب تک 230 سے زائد افراد کی ہلاکت، سیکڑوں لوگوں کے زخمی اور ہزاروں گھروں کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حزب التحریر دعا گو ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہلاک ہونے والوں کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد از جلد صحتیاب فرمائے اور لوگوں کے معاشی و مادی نقصانات کو اپنے خزانوں سے جلد از جلد پورا فرمائے (آمین)۔ یقیناً اس قسم کی قدرتی آفات کو کوئی روک نہیں سکتا لیکن اسلام ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ان آفات کے آنے سے پہلے ان کا سامنا کرنے کی تیاری کی جائے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ہمارے حکمران نہ تو اپنی شرعی ذمہ داریوں سے واقف ہیں اور نہ ہی وہ عوام کی مشکلات کو دور کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ جب سے پاکستان بنا ہے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے کبھی بھی عوام کو مناسب طبی سہولیات و محفوظ تعمیر شدہ گھر فراہم کیے ہیں، نہ مختلف دور دراز علاقوں تک رسائی کے لئے سڑکیں بنائیں ہیں اور نہ ہی ہنگامی صورتحال میں ان کی حفاظت کا کوئی مربوط انتظام قائم کیا ہے۔

        8 اکتوبر 2005 کو پاکستان میں تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا تھا اور اس وقت یہ حقیقت سامنے آگئی تھی کہ ریاست کے پاس اس قسم کی کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔اس زلزلے کے بعد بہت بلند بانگ دعوے کیے گئے کہ نیشنل ڈیساسٹر مینجمنٹ اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے اور اب حکومت اس قسم کی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کل آنے والے زلزلے کے بعد نیشنل ڈیساسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا وجود کہیں نظر نہیں آیا بلکہ ایک بار پھر وہی افراتفری کی کیفیت دیکھنے میں آئی اور زلزلہ متاثرین یہی گلہ کرتے رہے کہ ان کی مدد کے لیے ریاست کہیں نظر نہیں آرہی اور لوگ خود ہی اپنی مدد آپ کے تحت اس آزمائش کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ لڑنے کے لئے پچھلے دس سالوں میں صرف افواج پاکستان کی گرین بک میں ہی تبدیلی نہیں کی جاتی بلکہ اس تبدیلی کو حقیقت میں ڈھالنے کے لئے تمام وسائل فراہم کیے جاتے ہیں اور ضروری ڈھانچہ قائم کر لیا جاتا ہے تاکہ امریکی مفادات کا عملی طور پر تحفظ کیا جاسکے۔ لیکن جب بات عوام کے مفاد کی ہو تو انہیں ایک اتھارٹی کے قیام پر ٹرخا دیا جاتا ہے اور اس ادارے کو اپنا کام بھر پور طریقے سے کرنے کے لئےوسائل بھی فراہم نہیں کیے جاتے۔

        حزب التحریر تمام مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ جس طرح انہوں نے دس سال قبل اپنے بہن بھائیوں کی مدد کی تھی اس بار بھی وہ آگے بڑھ کر مشکل کی اس کھڑی میں ان کی بھر پورمدد کریں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حزب تمام مسلمانوں سے یہ بھی کہتی ہے کہ وہ اس خلافت کے قیام کی جدوجہد میں شامل ہو جائیں جو صرف لوگوں کی ہی نہیں بلکہ ہر زندہ شے کی اس قدر فکر کرتی ہے کہ خلیفہ راشد عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "اگر عراق کی سرزمین پر کوئی جانور گر پڑتا ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس پر میرا احتساب کریں گے کہ سڑک کو ٹھیک کیوں نہیں رکھا گیا تھا"۔ اور مسلمانوں کے خلیفہ میں یہ سوچ اس لیے آتی ہے کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا،

مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ

"جو شخص مسلمان رعیت کا حاکم ہو اور اس حال میں مر جائے کہ ان سے خیانت کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا "(بخاری)۔

        پاکستان کے مسلمانوں کو یہ بات جان لینا چاہیے کہ جمہوریت ہو یا آمریت دونوں میں ان کے امور سے لاپرواہی اس لئے برتی جائے گی کیونکہ حکمران خود کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتےاور صرف اپنے ذاتی مفادات اور اپنے استعماری آقاوں کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے اقتدار میں آتے ہیں۔ خلافت میں خلیفہ اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور مسلمانوں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ دونوں کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے مسلمان اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ اور اسلام کی بنیاد پر ان کے امور کی دیکھ بحال کے لئے خلافت کے قیام کی جدوجہد میں حزب التحریر کے ساتھ شامل ہوجائیں۔

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان


Today 3102 visitors (10083 hits) Alhamdulillah
=> Do you also want a homepage for free? Then click here! <=