Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

Press Conference for Engineer Owais Raheel


Friday, 25th ZilHaj1436                          09/10/2015 CE                           No: PN15073

Press Release

Press Conference for Engineer Owais Raheel

Callers of Khilafah Persecuted in a Country Created in the Name of Islam

The lawyer and a relative of Engineer Owais Raheel have held a press conference at Karachi Press Club. They informed media about matters related to the abduction of Engineer Owais Raheel, his arrest being made public after almost a month of his abduction as well as shedding light on the false accusations leveled against him. The lawyer of Engineer Owais Raheel said that on 18th September 2015 the people of Pakistan were informed through a press conference as to how our law enforcement agencies are employing cheap tactics, harassing and torturing respected and educated citizens, particularly those who call for Islam. Regrettably, Engineer Owais Rahell is now also one of them. He was abducted by law enforcement agencies on 11 September 2015, a Friday. The concerned police station was informed of his abduction and all higher authorities were informed by courier through the “TCS” company and requested to ensure his release. Also a petition (No. 5807/2015) was filed in the Sindh High Court which issued notices to all concerned authorities and set the date of a hearing for 8th October 2015.

The lawyer added that on 7th October 2015, Engineer Owais Rageel was presented in the Anti-Terrorism Court Number 3 and a false, fabricated incident was created, upon whose flawed basis the Superintendent of Police (SSP) of the CTD (Counter-Terrorism Department) issued a detention order under 11-EEEE of Anti Terrorist Act, granting a full 90 days detention. The SSP had no such power and nor does the constitution allow the issuing of such an order. The lawyer further said that this shows clearly that in Pakistan, which was created in the name of Islam, peaceful and Islam loving people are harassed and put behind bars, under the banner of National Action Plan, which is indeed a American Action plan. Addressing higher authorities through the media, he demanded that they must desist from employing such cheap tactics and release Engineer Owais Raheel and all other innocents like him, otherwise they are inviting Allah’s (swt) wrath upon themselves.

Hizb ut-Tahrir Wilayah Pakistan makes clear to the people of Pakistan, its media, politicians, Ullema, lawyers, intellectuals and officers of the armed forces that the National Action Plan is an American Action Plan, which is being used to silence the voices calling for the implementation of Islam and the re-establishment of Khilafah. Therefore Muslims of Pakistan, no matter from which segment of society they belong, are obliged to raise the word of truth, enjoining the Maruf (Good) and forbidding the Munkar (Evil), as per the command of Allah (swt) and His Messenger (saaw) lest our Dua's are not answered.

والذی نفسی بیدہ لتاءمرن با لمعروف فان و لتنھون عب المنکر ، او لیو شکن اللہ ان  یبعث علیکم عقابا نم عندہ، ثم لتد عنہ فلا یستجیب لکم

“By Whom in Whose hand is my soul, you shall enjoin Ma’ruf and you shall forbid Munkar, or Allah may send His punishment upon you, then you will supplicate to Him and He will not answer your prayers.”

[Narrated by Ahmed and al-Tirmithi]

Media Office of Hizb ut-Tahrir in the Wilayah of Pakistan

جمعہ، 25 ذی الحج، 1436ھ                             09/10/2015                                نمبرPN15073 :

انجینئراویس راحیل سے متعلق پریس کانفرنس

اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں خلافت کے داعیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

        انجینئر اویس راحیل کے وکیل اور ان کے رشتہ دار نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس منعقد کی۔ انہوں نے انجینئر اویس راحیل کے اغوا، تقریباً ایک ماہ بعد ان کی گرفتاری کو ظاہر کرنے اور ان پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا۔ انجینئر اویس راحیل کے وکیل نے بتایا کہ 18 ستمبر 2015 کو ہم نے پریس کانفرنس کے ذریعے سے یہ حقیقت پاکستانی عوام کے سامنے پیش کی تھی کہ کس طرح ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے شریف اور پڑھے لکھے شہریوں اور خاص طور پر اسلام کے نام لیواؤں کو حراساں اور تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں اورانجینئر اویس راحیل بھی انہی معصوم بے گناہ اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں سے ایک ہے۔ انجینئر اویس راحیل کو 11 ستمبر 2015 بروز جمعہ ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس اغواہ کی اطلاع متعلقہ تھانے میں دی گئی اور تمام اعلی حکام و افسران ِ بالا کو بذریعہ خط کورئیر"ٹی سی ایس" کمپنی باخبر کیا گیا اور اس کی رہائی کی درخواست کی گئی۔ اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک قانونی پٹیشن (نمبر 5807/2015) دائر کی گئی تھی جس پر تمام متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئیندہ سماعت 8 اکتوبر 2015 کو مقرر کی تھی۔

        وکیل نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2015 کو انجینئر اویس راحیل کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نمبر 3 میں پیش کیا گیا اور معلوم ہوا کہ مورخہ 6 اکتوبر 2015 کو جھوٹا، من گھڑت اور بد نیتی پر مبنی وقوعہ بنا کر سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سی ٹی ڈی (کاونٹر ٹیررازم ڈی پارٹمنٹ) کی جانب سے ایک ڈی ٹنشن آڈر (حکم گرفتاری) زیرِ دفعہ 11-ای ای ای ای انسدادِ دہشتگردی ایکٹ جاری کیا گیا، جس کے ذریعے انجینئر اویس راحیل کو مزید 90 دن کے لئے حراست میں لے لیا گیا۔ یہ ایک ایسا حکم نامہ ہے جس کو جاری کرنے کا ایس ایس پی کے پاس نہ تو اختیار تھا اور نہ ہی کوئی قانون اس  قسم کے غیر آئینی آڈر کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کس طرح اسلام کےنام پر بننے والے پاکستان میں اسلام پسند پرامن شہریوں کو نیشنل ایکشن پلان جو کہ دراصل استعماری منصوبہ ہے کہ نام پر حراساں اور پابندِ سلاسل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے توسط سے احکامِ بالا کو سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہیں اور انجینئر اویس راحیل اوراس جیسے معصوم لوگوں کو فوراً رہا کریں ورنہ وہ اپنے لئے اللہ کے غضب کو دعوت دیں گے۔

        حزب التحریر ولایہ پاکستان، پاکستان کے عوام، میڈیا، سیاستدانوں، علماء، وکلاء، دانشوروں افواج پاکستان کے افسران اور سپاہیوں پر واضح کر دینا چاہتی ہے کہ یہ حقیقت اب ثابت ہو چکی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں اسلام کے نفاذ اور خلافت کے قیام کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے مسلمانوں پر، چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو، یہ لازم ہے کہ وہ حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف کلمہ حق بلند کریں اور اللہ سبحانہ و تعالٰی اور رسول اللہ کے حکم کے مطابق امر بل المعروف اور نہی عن المنکر کے فرض کو انجام دیں ورنہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ہم دعائیں کریں اور اللہ ہماری دعاوں کو قبول نہ کریں۔

والذی نفسی بیدہ لتاءمرن با لمعروف فان و لتنھون عب المنکر ، او لیو شکن اللہ ان  یبعث علیکم عقابا نم عندہ، ثم لتد عنہ فلا یستجیب لکم

"اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور بالضرور امر بالمعروف اور نہی عن المکر کرو گے ورنہ خطرہ ہے کہ اللہ تم پر اپنی طرف سے عذاب نازل کر دے پھر تم اسے پکارو لیکن وہ تمہاری دعا قبول نہ کرے"

(احمد، ترمذی)

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس


Today 2590 visitors (8340 hits) Alhamdulillah
=> Do you also want a homepage for free? Then click here! <=