Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 29 05 2013

Wednesday, 19th Rajab 1434H                           29/05/2013                                N0: PR13057

Press Release

Abolish Democracy, Establish Khilafah

The Electricity Crisis is Democracy’s Best Revenge

The electricity crisis through out the country is indeed democracy’s best revenge against the masses. It is an open secret that this crisis is not because of generation capacity being unable to meet for our requirement. Then the question is; why have the people not been relieved from this crisis by the previous two regimes of Musharaf-Aziz and Kayani-Zardari? The rulers’ point fingers towards circular debt, expensive furnace oil, electricity theft, non-payments of bills and the extreme inefficiencies of distribution companies.

However, are these problems so insurmountable that the previous two governments could not address them? In fact, the real cause is that in democracy these electricity generating plants, units and their distribution companies are privately owned businesses, rather then public properties.  So even though the installed capacity is 21,000 MW and the peak demand is 17,500 MW, the electricity production remains at less than 9000 MW. The withholding of payments to these companies by the government is allowed by democracy, adding to the woes of the companies, who are struggling to produce whilst maintaining profits and avoiding further debt, and so are forced to under-produce. Moreover, whilst electricity remains private property, even if there is an increased supply to quell the people’s anger, it just means more debt for the country and even more expensive electricity.

This policy is employed because it keeps the people drowning in misery, so they do not raise voice against the American Raj. Thus, the rulers have created this crisis intentionally and now the strongest Muslim country seems to be weaker then any weakest of African nations. And this scenario helps the rulers to make excuses for their surrender before America.  The rulers in waiting since the 11th May general elections have started to say even before they have been sworn into office that they can not give any specific date for the ending of this crisis. Along with this, they are also creating a false perception that a country which acquired nuclear and missile technology without the assistance of any foreign power, cannot resolve this crisis with out the help of America, China or India. Moreover, on the one hand these rulers cry over scarcity of resources when it comes to ending this crisis, but on the other hand they spare nothing to fight America’s war, draining seventy billion dollars from the economy and spending billions of rupees of taxpayers’ money to maintain and secure the NATO supply line.

Democracy and dictatorship only fulfill American colonialist interests. Only the Khilafah will provide relief to the masses from this crisis by implementing rulings of Islam regarding energy. According to the saying of RasulAllah صلى الله عليه و سلم     “Muslims are partners (associates) in three things: in water, pastures and fire”(Dawood), the Khilafah will declare all electricity generating plants, units, organizations and their distributing companies as public property and abolish taxes imposed on petrol, diesel, furnace oil etc. These measures will not only liberate people from under-producing electricity producing units, it will also reduce the cost of electricity as well. Other then this Khilafah will opt for the policy of self reliance and promote the generation of electricity through those resources, like water, coal, natural gas, which are available within the state. This policy of self reliance further reduces the cost of electricity. 

Hizb ut-Tahrir warns the people that both democracy and dictatorship implement the capitalist system and care only for colonialist interests. Only the Khilafah can liberate the Ummah from the tyranny of the capitalist system and the clutches of the colonialist powers, through the implementation of Islam. Therefore the people must join Hizb ut-Tahrir in its struggle for the establishment of Khilafah.

Shahzad Shaikh

Deputy to the official spokesman of Hizb ut-Tahrir in Pakistan

 

بدھ، 19 رجب ، 1434ھ                                                     29/05/2013                نمبر:PR13057

جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو

بجلی کا بحران عوام سے جمہوریت کا بہترین انتقام ہے

ملک بھر میں جاری بجلی کا بدترین بحران عوام سے جمہوریت کا بہترین انتقام ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ اس بحران کی بنیادی وجہ بجلی کی پیداواری صلاحیت کی کمی نہیں ہے تو پھر آخر کیوں عوام کو نہ تو مشرف و شوکت عزیز کی حکومت اور نہ ہی زرداری و کیانی کی حکومت اس بحران سے نجات دلا سکی۔ حکمران گردشی قرضے، مہنگے فرنس آئل، بجلی چوری، بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں موجود شدید بدانتظامی کو اس مسئلے کی وجوہات قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ ایسے مسائل ہیں جنھیں پچھلی دو حکومتیں بھی حل نہیں کر سکتی تھیں۔ جمہوریت کی بدولت بجلی کے پیداواری ادارے اور تقسیم کار کمپنیاں عوامی اثاثے نہیں بلکہ نجی کاروبار ہیں۔ جب حکومت ان کے واجبات ادا نہیں کرتی تو وہ بجلی کی پیداوار میں کمی یا پاورپلانٹ ہی بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لہذا اس بات کے باوجود کہ بجلی کی پیداواری استعداد 21000 میگاواٹ جبکہ انتہائی طلب 17500 میگاواٹ ہے، بجلی کی پیداوار 9000 میگاواٹ سے بھی کم ہو جاتی ہے۔ جمہوریت ہی اس قسم کی پالیسی کی اجازت دیتی ہے جس میں چیز استعمال کر لینے کے باوجود اس کی قیمت ادا نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ جب عوامی غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار بڑھا بھی دی جاتی ہے تو اس کا مطلب ریاست کے لیے مزید خسارہ اور اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید قرضہ اور لوگوں کے لیے مہنگی بجلی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ پالیسی اس لیے اختیار کی جاتی ہے تا کہ عوام شدید بد حالی کا شکار ہو کر ملک میں امریکی راج کے خلاف آواز بھی بلند نہ کر سکیں۔ درحقیقت بجلی کا کوئی بحران سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ مسئلہ حکمرانوں نے جانتے بوجھتے پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے مسلم دنیا کا طاقتور ترین ملک کسی کمزور ترین افریقی ملک سے بھی کمزور تر لگنے لگا ہے تا کہ حکمران امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا جواز فراہم کر سکیں۔

11 مئی 2013 کے انتخابات کے نتیجے میں آنے والے حکمرانوں نے بھی قوم کو حکومت سنبھالنے سے قبل ہی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اس بحران کے خاتمے کی کوئی مدت متعین نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ تاثربھی مستحکم کر رہے ہیں کہ وہ ملک جس نے بغیر کسی بیرونی مدد کے شاندار ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی، اس بحران کو امریکہ، چین اور بھارت کی مدد کے بغیر حل نہیں کر سکتا۔ ایک طرف یہ حکمران اس بحران کے خاتمے کے لیے وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں لیکن بارہ سالوں سے امریکی جنگ لڑنے کے لیے معیشت کو 70 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا چکے ہیں اور پاکستان کے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والی اربوں روپے کی رقم کو نیٹو سپلائی لائن کو برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

جمہوریت و آمریت صرف اور صرف امریکہ اور استعماری طاقتوں کے مفادات کو پورا کرتی ہے۔ صرف خلافت ہی عوام کو بجلی کے اس بدترین بحران سے، توانائی سے متعلق اسلام کے احکامات کے نفاذ کے ذریعے، نجات دلائے گی۔ خلافت رسول اللہ ﷺ کے ارشاد ((المسلمون شرکاء فی ثلاث الماء و الکلا و النار)) "تمام مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراگاہیں اور آگ" (ابو داؤد)، کے مطابق بجلی کے تمام پیداواری کارخانوں، یونٹس، اداروں اور اس کی تقسیم کار کمپنیوں کو عوامی ملکیت قرار دے گی اور پیٹرول، ڈیزل، فرنس آئل وغیرہ پر عائد ٹیکسز کا خاتمہ کر دے گی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں عوام کو نہ صرف بجلی گھروں کی استعداد سے کم پیداوار کے مسئلے سے نجات سے نجات مل جائے گی بلکہ سستی بجلی بھی میسر آئے گی۔ اس کے علاوہ خلافت خود انحصاری کے حصول کے لیے بجلی پیدا کرنے کے لیے ریاست میں دستیاب وسائل جیسے پانی، کوئلہ، گیس وغیرہ کو استعمال میں لائے گی اور اس طرح بجلی کی پیداواری لاگت میں مزید کمی آئے گی۔

حزب التحریر عوام کو خبردار کرتی ہے جمہوریت و آمریت سرمایہ دارانہ نظام کو نافذ اور استعماری ممالک کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ صرف خلافت ہی اسلام کے نفاذ کے ذریعے امت کو سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم اور استعماری ممالک کے شکنجے سے آزاد کرائے گی۔ لہذاخلافت کے قیام کی جدوجہد میں حزب التحریر کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

شہزاد شیخ


Today 322 visitors (1813 hits) Alhamdulillah
=> Do you also want a homepage for free? Then click here! <=