Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 11 10 2013

Friday, 06 ZilHaj, 1434 AH                   11/10/2013 CE               No: PR13101

Press Release

Abolish Capitalism to Strengthen Currency, End Rampant Inflation

Shariah-stipulated Gold and Silver Backed Currency Will End Rupee Devaluation

Pakistan’s Finance Minister, Mr. Ishaq Dar, is misleading the people about the weakening of the Rupee, which is leading to rampant inflation in the country. He claims that market speculation is the root cause, when in fact the root cause is the very system that his government is implementing, Capitalism.

Like other currencies, the Dollar, the Pound and the Franc, originally, the Rupee was backed by real tangible wealth in the form of a precious metal. In the case of the Dollar, it was gold, in the case of the Rupee it was silver. This system stabilized the value of the monetary unit both internally within the region and externally in international trade, such that under Islam, the Indian Subcontinent was an economic powerhouse for the global economy.

However, due to capitalist practices, such as interest-based loans and stock markets, the demand for the creation of money outstripped the supply of gold and silver. The states abandoned the precious metal standard, so that currency became backed only by the authority over the state, allowing more and more notes to be printed, without being backed fully by gold and silver, such that each new note has less value than previously. However, money is used to buy commodities and services, so the money became worth less, if not almost worthless. Continuous rises in price is now so much part of the capitalist system that inflation is a widespread measure of how fast they are rising.

Islam has mandated that the currency of the state is backed by precious metal wealth, ending the root cause of inflation. RasulAllah (saw) commanded the Muslims to mint Gold Dinars, weighing 4.25g, and Silver Dirhams, weighing 2.975g, as the currency of the state. This is why the Khilafah enjoyed stable prices for over a thousand years. The very least that Mr. Dar and his cohorts can do is to stand aside to make way for Hizb ut-Tahrir to achieve ruling by Islam. Only under the K000 will the Muslims set an example to the entire world of economic prosperity, through the implementation of the revealed commands of Allah SWT and His Messenger SAW.

The Media Office of Hizb ut-Tahrir

In Wilayah of Pakistan

جمعہ، 6 ذی الحج، 1434ھ                                   11/10/2013                              نمبرPR13101:

کرنسی کی مضبوطی اور تباہ کن افراط زر کے خاتمے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرو

شریعت کے طریقہ کار کے مطابق  سونے اور چاندی پر مبنی کرنسی ہی روپے کی گرتی قدر کا خاتمہ کرسکتی ہے

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار یہ کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ روپے کی گرتی قدر کی بنیادی وجہ مارکیٹ میں ہونے والی سٹے بازی ہےجس کی وجہ سے ملک کو تباہ کن افراط زرکا سامنا ہے  جبکہ درحقیقت اس تباہ کن افراط زر کی بنیادی وجہ وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس کو حکومت نافذ کررہی ہے۔

ڈالر، پاؤنڈ اور فرانک کی طرح روپیہ بھی کسی قیمتی دھات کی بنیاد پر جاری ہوتا تھا۔ ڈالر کی صورت میں وہ قیمتی دھات سونا ہوتی تھی جبکہ روپے کی صورت میں وہ چاندی ہوا کرتی تھی۔ کرنسی کا یہ نظام مالیاتی نظام کو نہ صرف اس خطے میں اندرونی طور پر بلکہ بین الاقوامی تجارت میں بھی استحکام فراہم کرنے کا باعث ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے زیر سایہ برصغیر پاک و ہند عالمی معیشت کے لیے ایک انجن کا کردار ادا کیا کرتا تھا۔

لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جاری ہونے والے سودی قرضوں اور سٹاک مارکیٹ نے کرنسی کی اس قدر طلب پیدا کی جس کو  سونے اور چاندی کی رسد(Supply) پورا نہیں کرسکتی تھی۔ لہٰذا ریاستوں نے قیمتی دھات کی بنیاد پر جاری ہونے والی کرنسی کے نظام کو چھوڑ دیا اور زیادہ سے زیادہ نوٹ چھاپنے شروع کردیے جن کے پیچھے سونے اور چاندی کے ذخائر موجود نہیں تھے اور اس طرح ہر چھاپے جانے والا نوٹ پچھلے نوٹ سے قدر و قیمت میں کم ہوتا ہے۔ اور پھر جب ان نوٹوں سے اشیاء کو خریدا جاتا اور خدمات حاصل کی جاتیں تو یہ نوٹ اگر چہ اپنی مکمل قدر و قمیت تو نہیں کھوتے لیکن اس کا بڑا حصہ کھو دیتے ہیں۔اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب اس قدر سرمایہ  دارانہ نظام کاطرہ امتیاز بن چکا ہے کہ ہر ملک افراط زرکے پیمانے کا حساب رکھتا کہ وہ کس قدر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اسلام نے ریاست پر یہ لازم کیا ہے کہ وہ قیمتی دھات کی بنیاد پر کرنسی نوٹوں کو جاری کرے اور اس طرح اسلام نے افراط زر کی بنیادی وجہ ہی کا خاتمہ کردیاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں  کو حکم دیا کہ وہ ریاست کی کرنسی کے طور پر  سونے کے دیناراور چاندی کے درہم ڈھالیں جن کا وزن بالترتیب  4.25گرام اور 2.975گرام ہو۔ یہی وجہ تھی کہ ریاست خلافت ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصے تک قیمتوں  میں  استحکام قائم رکھنے  میں کامیاب رہی۔ جو سب سے آسان کام جناب ڈار اور ان کے ساتھی کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کے لیے راستہ کھلا چھوڑ دیں تا کہ اسلام کا نفاذ کیا جاسکے۔ صرف خلافت کے زیر سایہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کو نافذ کرکے ہی مسلمان پوری دنیا کی معاشی ترقی کے لیے ایک مثال قائم کرسکتے ہیں۔

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس



Today 2327 visitors (7766 hits) Alhamdulillah
=> Do you also want a homepage for free? Then click here! <=