Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PN 28 02 2013

Wednesday, 18th Rabii uth Thaanee 1434H                                28/02/2013                                N0: PN13024

Hizb ut-Tahrir Khilafah Bayyan Campaign well underway

The people’s demand is Khilafah Rashida

Hizb ut-Tahrir Wilayah Pakistan’s Khilafah Bayyan Campaign is well underway, beginning in January 2013, throughout Pakistan’s most populated cities, in the most prominent public places. The people are giving a strong response to the Bayyans, in which the speakers are calling the people to reject the current corrupt system and embrace the movement for establishing the Islamic Khilafah state in Pakistan.

The bayyans warned the people that the impending election drama is only to bring some new faces, along with some old faces. However, the real cause of misery and humiliation, the current democratic capitalist system, will remain firmly in its place. Just as in dictatorship, corruption, misery and humiliation is produced by democracy itself. Just like dictatorship, in democracy too the sovereignty to legislate, deciding what is right and wrong, lies with men and not Allah سبحانه وتعالى. So self-serving individuals know that once they are elected into the democratic system, they can make laws to secure their interests. Any corrupt one amongst us, regards his “investment” of millions of rupees to become a public representative through elections, a wise investment because it will give a good “return.” The assembly is not about taking care of the people's interests, but a way for these corrupt elements to look after their own affairs and the affairs of those who selected and groomed them to rule, the colonialists.

The bayyans reminded the people that the Khilafah alone will relieve us of corruption, misery and humiliation. Rulers do not make laws and are subject to the laws of Allah as are all the citizens. The Khilafah will estimate the personal wealth of the Walis when they enter ruling and will take back any wealth they acquire during ruling when their rule ends. Islam will bring us relief from the hardship of unaffordable electricity, gas, kerosene, diesel and petrol. This is because in the Khilafah system, public properties, which include fuel and power, can neither be privatized nor even nationalized, rather the people are its actual owners, whilst the state only administers them on people’s behalf. So, the Khilafah will never profiteer from these public properties, rather it will ensure they benefit the entire society. The Khilafah will bring relief from the hardship of crippling taxes under the current system, release us from foreign debt, whilst unleashing huge alternative revenue sources for looking after the affairs of the people. In Islam, Allah سبحانه و تعالى decides which revenues are fair as well as who are able to pay them and taxation upon the poor is forbidden. Islam has its own unique system of revenue collection, including revenue from public properties, such as gas and oil, copper and gold, revenue from agriculture such as ushr and kharaj, and revenue from industrial manufacture, through Zakah on goods. As for the foreign policy, the Khilafah will cut the root of foreign domination over the Muslims, as it will end all relations with hostile kafir states. It will close their embassies, bases, residences for private military organizations and will prevent contact with their military and political officials. Rather than depending upon the kuffar for strength and dignity, the Khilafah will work to unify all the Muslim Lands as one state and it will forge relationships with non-hostile kafir states to facilitate making the call to Islam to them, leaving the hostile states isolated. And this is only some of that which Hizb ut-Tahrir has prepared for implementation from the first moment the Khilafah is re-established inshaaAllah.

Media Office of Hizb ut-Tahrir in Pakistan

جمعرات 18 ربیع الثانی، 1434ھ                                    28/02/2013                                نمبر:PN13024

حزب التحریر کی خلافت بیان مہم کی شاندار کامیابی

عوام کا مطالبہ خلافت راشدہ

حزب التحریر ولایہ پاکستان کی خلافت بیان مہم، جس کا آغازجنوری 2013 میں ہوا تھا، پاکستان کے بڑے شہروں میں زبردست طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ بیانات اہم ترین عوامی و سیاسی مقامات پر دیے جا رہے ہیں جن میں مقررنین امت سے اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ موجودہ کرپٹ نظام کو مسترد کر دیں اور پاکستان میں خلافت کے قیام کی تحریک کا حصہ بن جائیں۔ امت اس بیاناتی مہم کا بھر پور مثبت جواب دے رہی ہے۔

ان بیانات میں لوگوں کو اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے انتخابات محض ایک ڈرامہ ہوں گے جس میں پرانے چہروں کے ساتھ ساتھ کچھ نئے چہرے متعارف کرائے جائیں گے، لیکن موجودہ جمہوری سرمایہ دارانہ نظام جوکہ اس ذلت اور بدحالی کی بنیادی وجہ ہے اپنی جگہ پر اسی مضبوطی سے قائم رہے گا۔ جمہوریت کی حقیقت یہی ہے کہ آمریت کی طرح یہ بھی بذاتِ خود کرپشن، بدحالی اور ذلت کو جنم دیتی ہے۔ کیونکہ آمریت کی طرح جمہوریت میں بھی قانون بنانے کا اختیار اللہ خالقِ کائنات کا نہیں بلکہ انسان کے ہاتھ میں ہے اور انسان جس چیزکو چاہے جائز یا ناجائز قرار دے سکتا ہے۔ لہٰذا وہ افراد، کہ جن کا مقصد محض اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرنا ہے، اس بات کو جانتے ہیں کہ اگر وہ جمہوری نظام میں منتخب ہو گئے تو ان کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ ایسے قوانین بنائیں جن سے ان کے ذاتی مفادات پورے ہوسکیں۔ چنانچہ کرپٹ افراد انتخابات میں کروڑوں روپے کی "سرمایہ کاری" کر کے 'عوامی نمائندے' بنتے ہیں۔ ان کرپٹ لوگوں کے لیے یہ عقلمندانہ سرمایہ کاری ہے کیونکہ اس کے عوض میں زبردست 'منافع' حاصل ہوتا ہے۔ جمہوریت میں اسمبلیوں کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ عوام کے مفادات کی نگہبانی کریں بلکہ ان اسمبلیوں کے ذریعے کرپٹ لوگ اپنے اور اُن استعماری طاقتوں کے مفاد کا تحفظ کرتے ہیں جو ان کا چنائو کرتی ہیں اور حکمرانی تک پہنچنے کے لیے ان کی تربیت کرتی ہیں۔

ان بیانات میں لوگوں کو اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی کہ صرف خلافت ہی ہمیں کرپشن، بدحالی اور ذلت کی صورتحال سے نجات دلوائے گی۔ خلافت میں حکمران قوانین نہیں بناتے بلکہ حکمران بھی عام شہریوں ہی کی طرح اللہ کے قوانین کی اتباع کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ خلافت میں والیوں (گورنروں) کو نامزد کرتے وقت ان کی ذاتی دولت کو شمار کیا جائے گا اور جب ان کی حکمرانی کی مدت کا خاتمہ ہوگا تو جو بھی دولت اصولی حساب سے زائد ہوگی اسے ضبط کر کے بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا۔ اسلام کے نظامِ معیشت کا نفاذ ہمیں بجلی، گیس، ڈیزل اور پیٹرول کی ناقابل ِبرداشت مہنگائی کے عذاب سے نجات دلوائے گا۔ یہ اس لیے ممکن ہوگا کیونکہ نظامِ خلافت میں تیل، گیس اور توانائی کے وسائل جیسے عوامی اثاثوں کو کسی بھی صورت پرائیویٹ کمپنیوں کی ملکیت میں نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی حکمران انہیں سرکاری ملکیت بناسکتا ہے بلکہ عوام ہی ان اثاثوں کے اصل مالک ہوتے ہیں اور ریاست صرف امت کی طرف سے دیے گئے اختیار کی بنا پر ان وسائل کے معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ لہٰذا ریاستِ خلافت کبھی بھی ان عوامی اثاثوں کو اپنے منافع کے لیے استعمال نہیں کرتی بلکہ وہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ان عوامی اثاثوں سے پورا معاشرہ فائدہ اٹھائے۔ خلافت موجودہ نظام میں نافذ ظالمانہ ٹیکسوں اور غیر ملکی قرضوں سے نجات دلائے گی اور ایک نئے ٹیکس نظام کو متعارف کروائے گی جس میں غریب عوام پر ٹیکسوں کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اتنے وسائل دستیاب ہوتے ہیں کہ جس سے امت کے معاملات کی نگہبانی کی جاسکے۔ اسلام کے نظام میں اللہ کا قانون ہی اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا ٹیکس منصفانہ ہے اور کون اس کو ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہے، جبکہ اسلام میں غریبوں پر ٹیکس لگانا حرام ہے۔ اسلام کا اپنا ایک منفرد محصولات کا نظام ہے جس میں عوامی اثاثوں، جیسے تیل، گیس، تانبہ، سونا وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدن، زراعت کے شعبہ سے حاصل ہونے والا عشر اور خراج اور صنعتی شعبے کی پیداوار پر لگنے والی زکوة وغیرہ شامل ہیں۔ اور جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے، تو خلافت مسلمانوں پر کفار کے غلبے کی جڑ ہی کاٹ دے گی اور وہ تمام حربی کفار سے تعلق توڑ لے گی، ان کے سفارت خانے، اڈے اور ان کی نجی عسکری تنظیموں کی رہائش گاہوں کو بند کر دے گی، اور ان کے کسی بھی فوجی اور سیاسی عہدیدارکے ریاستِ خلافت میں موجود رابطوں اور تعلقات کو کاٹ دے گی۔ ریاستِ خلافت کو طاقتور اور عزت دار بنانے کے لیے کفارکی طرف رجوع نہیں کیا جائے گا بلکہ خلافت مسلمان علاقوں کو یکجا کرنے کے لیے کام کرے گی تا کہ تمام مسلم علاقوں کو ضم کر کے ایک ریاست کی شکل دے سکے۔ خلافت غیر حربی کفار ممالک سے تعلقات استوار کرے گی تاکہ ان تک اسلام کی دعوت کو پہنچایا جاسکے اور مسلمانوں کے خلاف صف آرا کافر حربی ریاستوں کو تنہا کیا جائے۔ یہ اُن اقدامات میں سے چند ہیں جو حزب التحریر نے نفاذ کے لیے تیار کر رکھے ہیں، جنہیں اللہ کے اذن سے ریاستِ خلافت کے قیام کے فوراً بعد نافذ کیا جائے گا۔

میڈیا آفس حزب التحریر ولایہ پاکستان


Today 1290 visitors (4386 hits) Alhamdulillah
=> Do you also want a homepage for free? Then click here! <=