Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

PR 05 07 2014

Saturday, 7th, Ramadhan 1435 AH                                 05/07/2014 CE                           No: PR14045

Press Release

Announcement of Khilafah by ISIS

Establishment of Khilafah will change the world order

After the announcement of Khilafah by ISIS in Iraq, Muslims around the world are in dilemma whether Khilafah state actually has been established or this announcement is just rhetoric. Muslims must know that any group which has to announce the Khilafah in a place is obligated to follow the Methodology of the Prophet (saw) in it, and from it is that this group should have the obvious visible authority on the place, where it can maintain security internally and externally, and that this place should have what constitutes a state where the Khilafah is announced….This is what the Prophet (saw) performed when he established the Islamic State in Madina Al-Munawarra: the authority was with the Prophet (saw) and the internal and external security was with Muslims and they had what constitutes a state in the surrounding area.

The group that has announced the Caliphate has neither authority, in either Syria or Iraq, nor does it has the capability to maintain peace and security internally or externally, they have given allegiance to a Khalifah who cannot even publicly declare himself, rather his situation has remained secretive, similar to the situation that was before the state was announced and this is contradictory to what the Prophet (saw) did. The Prophet (saw) was permitted to hide in the Thawr Cave before the state was formed, but after the state was formed, he took care of the affairs of the people, led the armies, judged in disputes and sent messengers to others and accepted them from others publicly, thus his situation before and after the state was different. This is why the announcement of the group about the state is mere rhetoric and has no weight in it.

The Khilafah is a state of magnificence, and the Shariah has stipulated the methodology to establish it and the manner in how the rules would be extracted for ruling, politics, economics and international relations….and it will not be a mere announcement in name only, which is broadcast on the websites or print and televised media, rather it will be an event that will shake the whole world, and its roots will be strong and established on the ground, its authority will maintain peace and security internally and externally on that land and it will implement Islam within it and will carry Islam to the world through Dawa and Jihad.

It is very unfortunate that this announcement will create negative consequences with regard to the idea of Khilafah among the simple minded people. An announcement without any real substance will erode the significance of Khilafah in the hearts of simple people and it will remain no more than a beautiful word, uttered with pride but devoid of any substance. At this time as the establishment of the Khilafah comes closer than ever before and the Muslims are waiting for it eagerly, and they are seeing Hizb ut-Tahrir progressing in the path of the Prophet (saw) in how he established the state in Madina al Munawarra... this announcement was made, for the purpose of giving a picture of the Khilafah as if it were a police state in the minds of the simple minded people…

So every Muslim group must work for the establishment of Khilafah in order to fulfill the command of its establishment by following the method of Prophet (s.a.w). And it can only be established by following the methodology of Prophet (s.a.w).

Media Office of Hizb ut-Tahrir in the Wilayah of Pakistan

ہفتہ، 7 رمضان، 1435ھ                                  05/07/2014                              نمبرPR14045:

ISISکی جانب سے خلافت کے قیام کا اعلان

خلافت قائم  ہوتی تو دنیا کی صورتحال میں ایک بھونچال آ جاتا

          عراق میں ISIS کی جانب سے دنیا بھر  بشمول پاکستان کے مسلمانوں میں ایک بحث شروع ہو گئی جو خلافت کے قیام کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ امیر حزب التحریر، مشہور فقیہ اور سیاست دان، شیخ عطا بن خلیل ابو الرَشتہ نے اس معاملے کی حقیقت کی وضاحت بیان کی ہے کہ " کسی بھی گروہ کے لئے، جس نے کسی جگہ خلافت کے قیام کا اعلان کرنا ہے، یہ ضروری ہے کہ وہ اس معاملے میں رسول اللہﷺ کے طریقہ کار کی پیروی کرے، اوراس منہج کے مطابق اس گروہ کے لئے اس جگہ پر واضح نظر آنے والا اختیار ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اس جگہ پر اندرونی اور بیرونی سلامتی کو برقرار رکھ سکے اور جس جگہ خلافت کا اعلان کیا جا رہا ہو اس جگہ میں وہ تمام خصوصیات ہونا ضروری ہیں جو کسی بھی ایک ریاست میں موجود ہوتی ہیں ۔۔۔  جب رسول اللہﷺ نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی تو انہوں نے مندرجہ ذیل صلاحیتیں حاصل کیں: اتھارٹی رسول اللہ ﷺ کے پاس تھی اور اندرونی و بیرونی سلامتی مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اور جو کچھ ایک ریاست میں ہونا چاہیے وہ مدینہ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں موجود تھا"۔

          انہو ں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "جس گروہ نے خلافت کے قیام کا اعلان کیا ہے نہ تو اس کے پاس اتھارٹی ہے، چاہے عراق ہو یا شام اور نہ ہی ان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ اندرونی و بیرونی سلامتی کو برقرار رکھ سکیں۔ انہوں نے ایک ایسے شخص کو بیعت دی ہے جو کھل کر عوام کے سامنے بھی نہیں آ سکتا بلکہ اس کی صورت حال اب بھی خفیہ ہے جیسا کہ ریاست کے قیام کے اعلان سے قبل تھی اور یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے عمل سے متناقض ہے۔ رسول اللہﷺ کو ریاست کے قیام سے قبل غار ثور میں چھپنے کی اجازت تھی لیکن ریاست کے قیام کے بعد انہوں نے لوگوں کے امور کی دیکھ بھال سنبھال لی ، افواج کی قیادت کی، مقدمات میں فیصلے سنائے اپنے سفیر بھیجے اور دوسروں کے سفیر قبول کیے اور یہ سب کھلے عام، عوام کے سامنے تھا، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی صورتحال ریاست کے قیام سے قبل اور بعد میں بالکل مختلف تھی۔۔۔ ا سی لیے اس گروہ کی جانب سے ریاست کے قیام کا اعلان محض ایک جذباتی  نعرہ ہے جس میں کوئی وزن نہیں ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسا کہ اس  سے قبل بھی لوگ محض اپنی تسکین  کے لئے بغیر کسی جواز اور وزن کے ریاست کے قیام کا اعلان کرچکے ہیں "۔

          امیر حزب التحریر نے  خلافت کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ "ریاست خلافت کی ایک شان و شوکت  ہے، اور شریعت نے اس کے قیام کا ایک منہج بتایا ہے اور وہ طریقہ  بھی بتایا ہے کہ کس طرح حکمرانی، سیاست، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کے احکامات اخذ کیے جاتے ہیں۔۔۔اور خلافت کے قیام کا اعلان محض نام کا اعلان نہیں ہوگا جس کو ویب سائٹ یا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر جاری کردیا جائے بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گا اور اس کی بنیادیں مضبوط اور زمین میں پیوست ہوں گی، اس کا اختیار اس جگہ پر اندرونی و بیرونی امن  و سلامتی کو قائم  اور برقرار رکھے گا اور وہ اس سرزمین پر اسلام کو نافذ کرے گی اور دعوت و جہاد کے ذریعے  اسلام کے پیغام کو پوری دنیا تک لے کر جائے گی"۔

          انہوں نے امت کو امید کی نوید سناتے ہوئے کہا  کہ " خلافت رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کار کے مطابق ہی قائم ہو گی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اور جو اس کو قائم کریں گے وہ ویسے ہی ہوں گے جنہوں نے پہلی خلافت راشدہ قائم کی تھی۔ امت ان سے محبت کرے گی اور وہ امت سے محبت کریں گے، امت ان کے لیے دعا کرے گی اور وہ امت کے لیے دعا کریں گے، امت ان سے مل کر خوش ہو گی اور وہ امت سے مل کر خوش ہوں گے نہ کہ امت اپنے درمیان ان کے وجود کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے گی۔۔۔ ایسے ہوں گے وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کار کے مطابق آنے والی خلافت کو قائم کریں گے۔ اللہ یہ سعادت انہی کو دے گا جو اس کے حق دار ہوں گے اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم ان لوگوں میں سے ہوں اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کو قائم کرنے کی قوت عطا فرمائے،

﴿فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ

"تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھرایا ہے خوشی مناؤ"

(التوبۃ:111

پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس


Today 3595 visitors (11180 hits) Alhamdulillah
=> Do you also want a homepage for free? Then click here! <=