Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

Pakistan’s Regime creating pressure and division among the sincere Muslim fighters of Afghanistan

الله الرحمن الرحيم

News and Comment

Pakistan’s Regime creating pressure and division among the sincere Muslim fighters of Afghanistan


        On 18th August 2015, The United States urged Afghanistan and Pakistan to continue to cooperate, so as to take forwards the process of reconciliation with the Afghan Taliban, with the aim of ending violence in the region, Radio Pakistan reported. “The United States welcomes the dialogue and the cooperation that has taken place between the two countries,” US State Department spokesperson John Kirby said during a press briefing. Earlier, Commander Resolute Support Mission & US Forces in Afghanistan General John Campbell, acknowledged the regimes efforts in bringing peace in Afghanistan, particularly its role in facilitating the recent peace talks between Taliban and the government in Kabul held in Murree.


        America could never bring Afghan Taliban to the negotiation table without the support of the regime sitting in Islamabad. Most of the Afghan Taliban has strong relations and bases, used to attack US occupying forces in Afghanistan, within the tribal region of Pakistan. In order to pressurize them to take the bait offered by America, the Karachi Airport attack of June 2014 was used as an excuse to launch a full-fledged military operation, “Zarb-e-Azb,” in North Waziristan, home of the most feared Haqqani network as well as other fighters who were formerly considered Pakistan’s assets during the Jihad against USSR in 1980’s. Then the December 2014 attack on the Army Public School in Peshawar, in which almost one hundred and fifty people were killed, mostly children, was used to launch the National Action Plan to purge those fighters who wage Jihad against US occupying forces in Afghanistan, and are based in cities across Pakistan, particularly Karachi. These are the two major initiatives taken by Islamabad to force Afghan fighters to accept the US bait of “peace talks”.

        After the attack on the Army Public School Peshawar, Pakistan’s Army Chief, Raheel Sharif, and Prime Minister, Nawaz Sharif, made more than one visit to Kabul, apparently to ask for the handing over the masterminds of this horrific tragedy. However, that has not happened. Instead, we see that Kabul changed its tone towards Pakistan and “peace talks” are underway sponsored by Pakistan, under the watchful surveillance of America. This was sudden as both the Afghan government and the Afghan Talban had previously never showed any sign of confidence in the regime sitting in Islamabad.

        It is now clear that the Raheel-Nawaz regime is making every effort to force the Afghan Mujahideen to come to the negotiating table and accept the terms and conditions set by the US. And the most important thing for the US is the recognition of its puppet government sitting in Kabul, as well as the secular constitution crafted by her. The declaration of Mullah Umar’s death and the emergence of ISIS in Afghanistan are further being used by this regime to create disharmony and despair amongst the sincere Mujahideen so they can be pushed into a cage prepared by the US.

        The most unfortunate thing about all of this is that America was neither in a position to achieve any of her desired objectives with respect to Afghanistan, nor save herself from losing the war, without the help of the Raheel-Nawaz regime. Instead of putting Pakistan’s capabilities to create unity amongst Afghan Mujahedeen, expel the US from Afghanistan and erase an apparent danger sitting on the doorstep of a nuclear Pakistan, once for all, the Raheel-Nawaz regime took the side of America, so Washington can establish a substantial footprint in Afghanistan. And this is an open treachery against Allah (swt), His Messenger (saaw) and the Muslims of Pakistan and Afghanistan as Islam obliges waging Jihad in order to expel Kafir occupiers from Muslim Lands.

        InshaAllah the upcoming Khilafah will perform this duty easily by combining the strength and capability of both the armed forces of Pakistan and the sincere Mujahedeens. And by Allah’s will this will happen soon.

إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُواْ عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَـٰئِكَ هُمُ ٱلظَّالِمُونَ

“It is only as regards those who fought against you on account of religion, and have driven you out of your homes, and helped to drive you out, that Allah forbids you to befriend them. And whosoever will befriend them, then such are the Zalimun (wrong-doers those who disobey Allah)”


Written for the Central Media Office of Hizb ut-Tahrir by

Shahzad Shaikh

Deputy to the Spokman of Hizb ut-Tahrir in Wilayah Pakistan

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خبر اور تبصرہ

پاکستان کی حکومت افغانستان کے مخلص مجاہدین پر دباؤ ڈال رہی ہے اور انہیں تقسیم کر رہی ہے

خبر: 14جولائی 2015 کو ریڈیو پاکستان نے یہ خبر دی کہ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کو کہا تاکہ افغان طالبان کے ساتھ مفاہمت کے سلسلے کو آگے بڑھایا جاسکے جس کا مقصد خطے میں خونریزی کا خاتمہ ہو۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ، "امریکہ مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تعاون کو سراہتا ہے"۔ اس سے قبل افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل جان کیمبل نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغانستان میں امن کے قیام کے لئے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کیا خاص طور پر طالبان اور کابل میں موجود حکومت کے درمیان مری میں مذاکرات کو منعقد کرانے کے حوالے سے کردار کو سراہا۔

تبصرہ: امریکہ اسلام آباد میں موجود حکومت کی مدد کے بغیر کبھی بھی افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر نہیں لاسکتا تھا۔ طالبان کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مضبوط تعلقات اور اڈے موجود ہیں جنہیں وہ افغانستان پر قابض امریکی افواج پر حملوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے حل کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لئے جون 2014 میں کراچی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کو جواز بناتے ہوئے شمالی وزیرستان میں "ضرب عضب" کے نام سے بھر پور فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ شمالی وزیرستان وہ علاقہ تھا جو سب سے ماہر اور جنگجو حقانی نیٹ ورک اور دیگر تنظیموں کے جنگجووں کا گھر تھا اور جنہیں 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے بعد سے پاکستان کے اثاثے سمجھا جاتا تھا۔ پھر دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں حملہ ہوا جس میں تقریباً 150 افراد ہلاک کر دیے گئے جن میں زیادہ تر بچے تھے اور پھر اس المناک سانح کو بنیاد بناتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان بنایا اور اس پر عمل درآمد شروع کیا گیا جس کا مقصد پاکستان کے شہروں خصوصاً کراچی میں موجود ان جہادیوں کو ختم کرنا تھا جو افغانستان میں امریکی افواج سے لڑتے ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے یہ وہ دو اہم ترین اقدامات تھے جس کے ذریعے افغان مجاہدین کو مذاکرات کے نام پر پھینکے گئے امریکی چارے کو کھانے پر مجبور کیا گیا۔

آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد پاکستان کے آرمی چیف راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف نے قابل کے ایک سے زائد دورے کیے۔ بظاہر تو ان دوروں کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ کابل سے پشاور کے خوفناک سانحے میں ملوث منصوبہ سازوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس ان دوروں کے بعد کابل کی پاکستان اور اس کی جانب سے شروع کی جانے والی "امن بات چیت"، جس کی امریکہ براہ راست خود نگرانی کر رہا ہے، کے حوالے سے انتہائی منفی لب و لہجہ میں زبردست مثبت تبدیلی آگئی۔ یہ ایک اچانک تبدیلی تھی کیونکہ اس سے قبل افغان حکومت اور افغان طالبان دونوں ہی نے اسلام آباد میں بیٹھی حکومت پر کبھی اعتماد کا اظہار نہیں کیا تھا۔

یہ بات اب واضح ہے کہ راحیل-نواز حکومت افغان مجاہدین کو مذاکرات کی میز پر بیٹھانے اور امریکی کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط کو تسلیم کروانے کے لئے ہر طرح کا قدم اٹھا رہی ہے۔ ان شرائط میں سے امریکہ کے لئے سب سے اہم کابل میں بیٹھی اس کی کٹھ پتلی حکومت اور اس کی جانب سے بنوائے گئے سیکولر افغان آئین کو تسلیم کروانا شامل ہے۔ ملا عمر کی موت کی خبر اور داعش کے افغانستان کے منظر پر آنے کو بھی حکومت نےمخلص مجاہدین کو تقسیم کرنے اور انہیں مایوس کی دلدل میں دھکیلنے کے لئے استعمال کیا ہے تاکہ وہ امریکی جال میں جکڑے جائیں۔

اس تمام صورتحال میں جو بات انتہائی افسوسناک ہے وہ یہ کہ امریکہ راحیل-نواز حکومت کی مدد کے بغیر بذات خود نہ تو افغانستان میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے کی پوزیشن میں تھا اور نہ ہی ہاری ہوئی جنگ کو مذاکرات کی میز پر فتح میں تبدیل کرسکتا ہے۔ پاکستان کی طاقت اور صلاحیت کو افغان مجاہدین کو متحد کرنے، افغانستان سے امریکہ کو نکالنے اور ایٹمی پاکستان کے دروازے پر کھڑے امریکی خطرے کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے راحیل-نواز حکومت نے اس طاقت و صلاحیت  کو افغانستان میں امریکی وجود کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اور یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ، اس کے رسول اور ان کی امت کے خلاف کھلی غداری ہے کیونکہ مسلم علاقوں کو کافر حملہ آوروں اور قابضین سے آزاد کرانے کے لئے اسلام جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے۔

انشاء اللہ بہت جلد آنے والی خلافت اس فریضے کو پاکستان کی افواج اور مخلص مجاہدین کی قوت کو یکجا کر کے باآسانی انجام دے گی اور اللہ کے حکم سے یہ بہت جلد ہوگا۔

إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُواْ عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَـٰئِكَ هُمُ ٱلظَّالِمُونَ

"جن لوگوں نےدین کی وجہ سے تمہارے ساتھ قتال کیا اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی، اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے دوستی کرنے سے تمہیں منع کرتا ہے۔ جو لوگ ان سے دوستی کرتے ہیں وہی ظالم ہیں"


حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے لکھا گیا

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Today 35 visitors (41 hits) Alhamdulillah
This website was created for free with Would you also like to have your own website?
Sign up for free